تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 100
سُوْرۃُ النَّازِعَات مَکِیَّةٌ سورۃ نازعات۔یہ سورۃ مکّی ہے۔وَ ھِیَ سِتٌّ وَّ اَرْبَعُوْنَ اٰیَةً دُوْنَ الْبَسْمَلَةِ وَ فِیْہَا رُکُوْعَانِ اور اس کی بسم اللہ کے علاوہ چھیالیس آیتیں اور دو رکوع ہیں۔۱ سورۃ نازعات مکی ہے ۱؎ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کا قول ہے کہ یہ مکی سورۃہے۔اور اس کے متعلق کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔سب مفسّرین کا اس سورۃ کے مکّی ہونے پر اتفاق ہے(فتح البیان سورۃ النازعۃ ابتدائیۃ)۔سورۃ نازعات کا سورۃ نباء سے تعلق میرے نزدیک اس سورۃ کا پہلی سورۃ سے یہ جوڑ ہے کہ پہلی سورۃ میں بیان کیا گیا تھا کہ مسلمان جو آج تمہیں حقیر نظر آتے ہیں جن کی تعداد دیکھ کر تم ہنستے ہو اور جن کے متعلق تم یہ خیال کرتے ہو کہ انہوں نے دنیا میں کیا تغیّر پیدا کرنا ہے یہ ایک دن تم پر غالب آجائیں گے اور تم ان کے مقابلہ میں بالکل ذلیل ہو جائو گے۔چنانچہ سورۃ نبأ میں جو اس وقت نازل ہوئی جب سارے مکّہ میں مسلمانوں کی کل تعداد زیادہ سے زیادہ چالیس تھی بڑے زور سے یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ وہ دن آنےوالا ہےجب مسلمان غالب آجائیں گے اور مشرکین کو حکم دیدیا جائے گا کہ وہ مکّہ سے نکل جائیں۔سورۃ نازعات کے مضمون کا خلاصہ جب انبیاء کی طرف سے پیشگوئیاں کی جاتی ہیں تو دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ایک تو وہ ہوتے ہیں جو ہر چیز کو روحانی نظر سے دیکھتے ہیں جب انہیں کہا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایسے کہا ہے تو وہ صرف اس امر کی تحقیق کرتے ہیں کہ آیا خدا تعالیٰ نے ایسا کہا ہے یا نہیں کہا۔جب انہیں معلوم ہو جاتا ہے کہ فلاں بات خدا تعالیٰ نے ہی کہی ہے تو ان کو اطمینان حاصل ہو جاتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ جب خدا تعالیٰ نے ایسا کہا ہے تو لازمًا ایک نہ ایک دن ویسا ہی ہوبھی جائےگا اس میں شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔لیکن بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی تسلّی محض اس وجہ سے نہیں ہوتی کہ خدا تعالیٰ ایسا کہتا ہے بلکہ وہ اس کے شواہد اور آثاربھی دیکھنا چاہتے ہیں۔گویا ایک خبر کے متعلق باوجود یہ سُن لینے کے کہ وہ خدا تعالیٰ نے دی ہے کسی انسان نے وہ خبرنہیں دی پھر بھی اُن کا دل تسلی نہیں پاتا۔بلکہ وہ مادی دُنیا میں اس کی صداقت کے کچھ آثار بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔وہ کہتے ہیں خدا تعالیٰ بھی جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو اسباب اور ذرائع سے کام لیتا ہے۔بغیر اسباب اور ذرائع کے کوئی کام نہیں