تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 97

عرب کے قبائل اور سرداروں نے اپنابادشاہ تسلیم کر لیا۔غرض يَوْمَ يَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدٰهُ سے اسی طرف اشارہ تھا کہ ہر اِک اپنے اپنے کام کے مطابق نتیجہ دیکھ لے گا۔چنانچہ لوگوں نے دیکھ لیا کہ رؤسا عرب ذلیل و رسوا ہو گئے اور ابو قحافہ کے بیٹے کی بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب نے بھی اطاعت اختیار کر لی۔مسلمانوں کی شوکت کے ایام میں کافر کا حسرت سے یَا لَیْتَنِیْ کُنْتُ تُرَابًا کہنا اگلے جہاں کے لحاظ سے وَ يَقُوْلُ الْكٰفِرُ يٰلَيْتَنِيْ كُنْتُ تُرٰبًا کے یہ معنے ہوں گے کہ کافر عذاب کو دیکھ کر حسرت کے ساتھ کہے گا کہ کاش میں مٹی ہوتا اور اس عذاب کو نہ دیکھتا۔اور اس جہان کے لحاظ سے اس کے یہ معنے ہیں کہ کاش میں مٹی ہوتا اور اس ندامت اور شرمندگی کی ذلّت سے بچ جاتا جو مجھے دیکھنی نصیب ہوئی۔چنانچہ مسلمانوں کی شوکت کے زمانہ میں کفّار کی یہی حالت ہوئی۔مکّہ کے وہ بڑے بڑے رؤسا اور سردار جو نہایت حقارت کے ساتھ رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان لانے والوں کو مکّہ کی گلیوں میں گھسیٹا کرتے تھے جب دیکھتے ہوں گے کہ وہ معمولی غلام جن کو ہم خاطر میں بھی نہ لاتے تھے جن کی تحقیر ہمارا دن رات کام تھا اور جن کو مٹانے کی ہم نے بڑی کوششیں کی وہ ہم پر غالب آچکے ہیں اور ہم اُن کے سامنے معمولی غلاموں کی طرح کھڑے ہیں تو اُن کے دلوں میں کیا کیا حسرتیں پیدا ہوتی ہوں گی اور کس طرح وہ اپنے دلوں میں بار بار کہتے ہوں گے کہ کاش ہم اس سے پہلے مر کر فنا ہو چکے ہوتے اور اس شرمندگی اور ذلّت کو دیکھنے سے بچ جاتے۔آنحضرت ؐ کو مکہ میں قبول نہ کرنے کی وجہ سے سردران مکہ کے دلوں میں حسرت حضرت عمرؓ ایک دفعہ اپنے زمانۂ خلافت میں مکّہ تشریف لائے تو شہر کے بڑے بڑے رؤسا جو مشہور خاندانوں میں سے تھے اُ ن کے ملنے کے لئے آئے۔انہیں خیال پیدا ہوا کہ حضرت عمر ؓ ہمارے خاندانوں سے اچھی طرح واقف ہیں اس لئے اب جب کہ وہ خود بادشاہ ہیں ہمارے خاندانوں کا بھی پوری طرح اعزاز کریں گے اور ہم پھر اپنی گم گشتہ عزت کو حاصل کر سکیں گے۔چنانچہ وہ آئے اور انہوں نے آپ سے باتیں شروع کر دیں ابھی وہ باتیں ہی کر رہے تھے کہ حضرت عمرؓ کی مجلس میں بلالؓ آگئے۔تھوڑی دیر گزری تو حضرت خبابؓ آگئے اور اسی طرح یکے بعد دیگرے اول الایمان غلام آتے چلے گئے۔یہ وہ لوگ تھے جو ان رئوسا یا اُن کے آباء کے غلام رہ چکے تھے اور جن پر وہ اپنی طاقت کے زمانہ میں شدید ترین مظالم کیا کرتے تھے حضرت عمرؓ نے ہر غلام کی آمد پر اُس کا استقبال کیا اور رئوساء سے کہا آپ ذرا پیچھے ہو جائیں اور اُن کو آگے بیٹھنے کے لئے جگہ دے دیں حتیٰ کے وہ نوجوان رئوسا جو آپ سے ملنے آئے تھے ہٹتے ہٹتے دروازہ تک جا پہنچے۔اُس زمانہ میں کوئی بڑے بڑے ہال تو ہوتے نہیں تھے ایک چھوٹاسا