تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 5
اس وقت حضرت سلیمانؑ نے اپنے لشکر کاجائزہ لیا تو ایک سردارِ لشکر کوجس کانام ھُدھُد تھا غائب پایا۔ایسے نازک موقعہ پر ایک فوجی افسر کے غائب ہونے سے آپ کو شدید تشویش ہوئی اورآپ نے کہا کہ میںیقیناً اسے سخت ترین سزادوں گا یا اسے قتل کردوں گا۔اوریاپھر اسے واضح دلیل کے ساتھ بتانا پڑے گاکہ وہ کیوں غائب رہا۔(آیت ۲۱و۲۲) تھوڑی دیر ہی گذری تھی کہ وہ سردار واپس آگیا اوراس نے بتایاکہ چونکہ آپ ملک سباء پر حملہ کرنے کے لئے جارہے تھے۔میں پہلے سے اس ملک کے حالات دریافت کرنے کے لئے وہاں چلاگیااوراب میں یہ رپورٹ لے کر آیاہوں کہ اس ملک کی حکمران ایک عورت ہے لیکن غضب کی حاکم ہے۔ہرقسم کے سازوسامان اس کے پاس موجود ہیں اوراس کی بادشاہت بہت بڑی ہے لیکن روحانی لحاظ سے یہ خرابی بھی ہے کہ ملکہ اوراس کی قوم سورج کی پرستش کرتی ہے اورتوحید سے روگردان ہے۔حضرت سلیمانؑ سمجھ گئے کہ وہ شرارتاً غائب نہیں ہواتھا اورانہوں نے کہا۔بہت اچھا ہم وہاں جاکے دیکھیں گے کہ تُو سچ بول رہاہے یاجھوٹ۔مگرپہلے میرایہ خط لے جا اوراسے ملکہ اوراس کے درباریوں کے سامنے رکھیو اورخود مؤدبانہ طورپر پیچھے ہٹ کر کھڑے ہوجائیو۔اوردیکھیئو کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں (آیت ۲۳تا۲۹) جب ہُدہُد نے و ہ خط پیش کیا۔توملکہ نے اپنے درباریوں سے کہا کہ یہ ایک بڑامعزز مکتوب ہے جوسلیمانؑ کی طرف سے آیاہے اوراس میں لکھا ہے کہ میرے خلاف سرکشی مت کرو اورفرمانبردار ہو کر میرے حضور حاضر ہوجائو۔(آیت ۳۰تا۳۲) اس کے بعد ملکہ سبانے اپنی قوم کے سرداروں سے کہا کہ اس مشکل مسئلہ کے حل کے لئے مجھے مشورہ دو۔انہوں نے کہا۔حضورہم توبڑے طاقتور ہیں اورآزمودہ کارجرنیل ہیں۔مگرفیصلہ بہرحال آپ کے اختیار میں ہے۔ملکہ سبانے کہا۔بات دراصل یہ ہے کہ بادشا ہ جب اپنے زبردست لشکروں کے ساتھ کسی ملک میں داخل ہوتے ہیں تواس کو اجاڑ کر رکھ دیاکرتے ہیں اوروہاں کے معزز شہریوں کو ذلیل جانوروں کی طرح بنادیتے ہیں۔اس لئے میں نے تویہ تجویز سوچی ہے کہ میں حضرت سلیمانؑ کو ایک تحفہ بھیجتی ہوں اوردیکھتی ہوں کہ میرے آدمی کیا جواب لاتے ہیں۔(آیت ۳۳تا۳۵) حضرت سلیمانؑ کو جب و ہ تحفہ پیش کیاگیا۔توانہوں نے کہا خدا نے مجھے اس سے بہتر چیزیں دے رکھی ہیں۔یہ تحفہ جو مجھے رشوت کے طورپر پیش کیاگیاہے مجھے اپنے عزائم سے باز نہیں رکھ سکتا۔اے ہُدہُدان کی طرف واپس