تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 4
اوراپنے ہاتھ کواپنےگریبان میں ڈال۔جب تو اس کونکالے گاتو دیکھے گاوہ بالکل سفید ہے۔یعنی وہ چمکتا ہوا نظر آئے گا۔مگرکسی قسم کاعیب اس میں نہیں ہوگا۔(آیت ۱۳) یہ نشان جو ہم نے موسیٰ ؑ کو دیا یہ ان نو نشانوں میں سے ایک تھا جو فرعون اوراس کی قوم کی طرف بھیجے جانے والے تھے۔کیونکہ وہ لوگ فرمانبرداری سے نکلے ہوئے تھے۔لیکن ہوایہ کہ جب موسیٰ ؑ وہ نشان لے کر فرعون اور اس کی قوم کے پاس آیا توباوجود اس کے کہ و ہ نشان بڑے واضح تھے اورحقیقت کو دکھانے والے تھے انہوں نے کوئی فائدہ نہ اٹھایا۔اورکہا یہ توکھلا کھلا فریب ہے۔اوربڑی سختی سے ان نشانات کا انکار کیا۔حالانکہ ان کے دلوں نے ان کو سچاسمجھ لیاتھا۔ان کایہ انکا ر ظلم اورتکبر کی وجہ سے تھا۔پھر دیکھ کہ ایسے فسادی لوگوںکاکیاانجام ہوا۔(آیت ۱۴و۱۵) حضرت موسیٰ علیہ السلام کاواقعہ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ حضرت دائود ؑ اورسلیمانؑ کا ذکر کرتاہے اور ان دونوں کاقول یہ بیان فرماتا ہے کہ ہمیں بہت سے مومن بندوں پر خدا تعالیٰ نے فضیلت بخشی ہے۔یعنی خلافتِ روحانی اور جسمانی کے ذریعہ۔(آیت ۱۶) اس کے بعد فرماتا ہے کہ حضرت دائود ؑ کی وفات پر سلیمان ؑ تخت نشین ہوئے اورانہوں نے لوگوں سے کہا کہ مجھے بھی وہ بولی سکھائی گئی ہے جوبلندی کی طرف پرواز کرنے والے لوگوںیعنی اللہ تعالیٰ کے انبیاء کو سکھائی جاتی ہے۔اورمجھے جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے خدا تعالیٰ ان کو مہیاکردیتاہے۔اوریہ بات اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے ہی حاصل ہوتی ہے۔(آیت ۱۷) پھر فرماتا ہے۔ایک دفعہ سلیمانؑ کے سامنے جنوں اورانسانوں اورپرندوں میں سے ان کے لشکر حاضر کئے گئے اورانہیں ترتیب وار الگ الگ کھڑاکیاگیا۔(یہ الفاظ دلالت کرتے ہیں کہ حضرت سلیمانؑ اس وقت کسی ملک پر چڑھائی کرنے کی تیاری کررہے تھے )۔( آیت ۱۸) آپ اپنے لشکروں کے ساتھ جارہے تھے کہ راستہ میں آپ نملہ قوم کی وادی میں سے گذرے۔(جس کو غلطی سے مفسرین نے چیونٹیوں کی وادی سمجھ لیاہے)آپ کو اورآپ کے لائو لشکرکودیکھ کر نملہ قوم کی ملکہ نے اپنے قبیلہ کے لوگوں سے کہا کہ اے نملہ قوم کے لوگو اپنے اپنے گھروں میں گھس جائو۔تاکہ یہ خیال کرکے کہ تم سلیمانؑ کے لشکر کامقابلہ کرناچاہتے ہو سلیمانؑ اورا س کالشکر تمہیں پائو ں کے نیچے روند نہ ڈالے۔حضرت سلیمانؑ نملہ قوم کی ملکہ کے اس اعلان پر ہنس پڑے اوراللہ تعالیٰ کا شکر بجالائے کہ اس نے دوردراز کے ملکوں میں بھی یہ بات پھیلادی ہے کہ سلیمانؑ ظالم نہیں اوروہ ادنیٰ قوموں کے ساتھ بھی انصاف کرتاہے۔(آیت ۱۹و ۲۰)