تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 82
میںتولوگ خط باندھا ہی کرتے تھے۔مگرہدہد کو ڈاکیہ بنانے کالطیفہ ہمارے مفسرین کو ہی سوجھا ہے پھر ایک بے عقل جانورکو کیسے آداب سکھائے جاتے ہیں کہ براہ راست ملکہ کے ہاتھ میں خط نہ دیجئیو۔کیونکہ یہ ایک بے ادبی سمجھی جاتی ہے۔بلکہ ا س کے درباریوں کے سامنے خط رکھیئو۔وہ خود اس کے آگے خط پیش کردیں گے۔جیساکہ سلطانی آداب میں یہ بات شامل ہے پھر جلدی سے جواب نہ مانگیئو۔گویا حضرت سلیمان علیہ السلام کو ہی پرندوں کی بولی نہیں آتی تھی بلکہ ملکہ سباکوبھی آتی تھی۔اورمناسب انتظار کے بعد جب وہ جواب دیں تولے آئیو۔قَالَتْ يٰۤاَيُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّيْۤ اُلْقِيَ اِلَيَّ كِتٰبٌ كَرِيْمٌ۰۰۳۰ (جب اس نے ایساکیا تو)وہ (ملکہ )بولی۔اے میرے درباریو !میرے سامنے ایک معز ز خط رکھا گیاہے۔اِنَّهٗ مِنْ سُلَيْمٰنَ وَ اِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِۙ۰۰۳۱ (جس کا مضمون یہ ہے کہ) یہ (خط)سلیمان کی طرف سے ہے اوراس میں بتایاگیاہے کہ اللہ جو بے انتہا اَلَّا تَعْلُوْا عَلَيَّ وَ اْتُوْنِيْ مُسْلِمِيْنَؒ۰۰۳۲ کرم کرنے والا اوربار بار رحم کرنے والا ہے اس کے نام سے ہم شروع کرتے ہیں۔(اورکہتے ہیں)کہ ہم پر زیادتی نہ کرو۔اورہمارے حضور میں فرمانبردا ربن کر حاضر ہوجائو۔حلّ لُغَات۔اَلْمَلَأُ۔اَلْمَلَأُکے معنے ہیں اَلْاَشْرَافُ۔بڑے لوگ۔صاحب مرتبہ۔وجاہت والے۔قِیْلَ سُمُّوْا بِذٰلِکَ لِمَلَاءَتِھِمْ بِمَا یُلْتَمَسُ عِنْدَھُمْ مِنَ الْمَعْرُوْفِ وَجَوْدَۃِ الرَّأْیِ اَوْ لِاَنَّھُمْ یَمْلَاُوْنَ الْعُیُوْنَ أُبَّھَۃً وَالصُّدُّوْرَ ھَیْبَۃً۔اورسرداروں کو مَلَاٌ اس لئے کہتے ہیں کہ جس امرکے متعلق ان سے مشورہ لیاجاتاہے۔اس کے متعلق رائے دینے کے لئے ان کادماغ بھرپور ہوتاہے۔نیز ان کو دیکھ کرلوگوں کی آنکھیں اوردل رعب سے بھر جاتے ہیں (اقرب الموارد) تفسیر۔جب ہدہد نے حضرت سلیمان علیہ السلام کاخط ملکہ کے درباریوں کے آگے رکھ دیااورانہوں نے ملکہ کے آگے پیش کردیا۔توملکہ نے کہا۔ایک بڑا معز ز خط میرے آگے پیش کیاگیا ہے وہ سلیمان ؑ کی طرف سے ہے اور اس کے شروع میں بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ لکھی ہے اور اس کا مضمون یہ ہے کہ میرے خلاف سرکشی مت