تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 80
دُوْنِ اللّٰهِ وَ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ سجدہ کرتے دیکھا۔اورشیطان نے ان کے عمل ان کو خوبصورت کرکے دکھائے ہیں۔اوران کو سچے راستہ سے السَّبِيْلِ فَهُمْ لَا يَهْتَدُوْنَۙ۰۰۲۵اَلَّا يَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِيْ روک دیاہے۔جس کی وجہ سے وہ ہدایت نہیں پاتے۔اورمُصّر ہیں کہ اللہ کوسجدہ نہ کریں جو کہ آسمانوں اور زمین کی يُخْرِجُ الْخَبْءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ يَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَ ہر پوشیدہ تقدیر کو ظاہر کرتاہے اورجوکچھ تم چھپاتے ہو اورظاہرکرتے ہو ان تدبیروں کو بھی جانتا ہے۔حالانکہ اللہ مَا تُعْلِنُوْنَ۰۰۲۶اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِؑ۰۰۲۷ وہ ہے جس کے سواکوئی معبود نہیں (وہ )ایک بڑے تخت کامالک ہے۔حلّ لُغَات۔اَلْخَبْءُ۔اَلْخَبْءُکے معنے ہیں مَاخُبِئَی وَغَابَ۔یعنی وہ چیز جو چھپائی جائے اورغائب ہو۔اور خَبْ ءُ الْاَرْضِ کے معنے ہیں نَبَاتُھَا زمین کی انگوری۔او رخَبْ ءُ السَّمَآءِ کے معنے ہیں مَطَرُھَا بارش (اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے۔حضرت سلیمان علیہ السلام کووہاں پڑائو کئے ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ وہ سردار واپس آگیا۔اوراس نے بتایاکہ چونکہ آپ ملک سباپر حملہ کرنے کے لئے جارہے تھے اورسباکاعلاقہ میرے ملک کاایک حصہ ہے میں پہلے سے خبر لینے کے لئے وہاں چلا گیا۔کیونکہ زبان اور قو م کے ایک ہونے کی وجہ سے میرے لئے وہاں کے حالات معلوم کرنا آسان تھا مجھے اس بات کا یقینی طورپر علم حاصل ہوچکا ہے۔کہ اس وقت اس ملک میں ایک عورت حاکم ہے لیکن غضب کی حاکم ہے ہرقسم کے سازو سامان اس کے پاس موجود ہیں اورا س کی بادشاہت بہت بڑی ہے۔اُوْتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ سے یہ مراد نہیں کہ ملکہ سباکو ہرنعمت میسر ہے۔کیونکہ اگراسے ہرنعمت میسر ہوتی تو جب اس نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس تحفہ بھیجاتھاتوآپ اس وقت یہ نہ کہتے کہ میرے پاس تو اس سے بھی بڑھ کرچیزیں ہیں۔میں ان تحفوں سے کیونکر متاثر ہوسکتاہوں۔پس حضرت سلیمان علیہ السلام کا یہ کہنا کہ میرے پاس توملکہ سباسے بھی بڑھ کر مال و دولت اور سامان موجود ہے بتاتاہے کہ اُوْتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ سے صرف یہ مراد ہے