تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 79
کریم میں جو ہدہد کہا گیاہے یہ ھُدَدَ کامعرب ہے اوراس سے مراد ادومی خاندان کا کوئی شہزاد ہ ہے جوآپ کے فوجی سرداروں میں سے ایک سردار تھا۔یہ ادومی خاندا ن حضرت سلیمان علیہ السلام کی بادشاہت میں بستاتھا اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے خاندان کارقیب تھا۔اس قوم کے سردار کو جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے نہ پایا۔توسمجھا کہ یہ رقیب قبیلہ کاسردار ہے ممکن ہے کہ کسی شرار ت کی نیت سے دشمن کے ملک میں چلا گیا ہو۔اوراس پر ان کو غصہ آگیا۔لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ہدہد عرب قبیلہ کاکوئی سردار ہو۔کیونکہ بائیبل سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ایک بیٹے کا نام بھی ہدہد تھا۔اورتاریخی طور پر یہ امر ثابت ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے وقت تک اس رستہ میںجو فلسطین سے یمن کی طرف آتاہے عرب قبیلے بستے تھے۔(تقویم البلدان )اور چونکہ عربوں اور یہودیوں کی باہم سخت چپقلش تھی اورگووہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے ماتحت آگئے تھے لیکن مخالفت اب تک باقی تھی۔اس لئے جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے دیکھا کہ عر ب قوم کاایک سردار غائب ہے توان کے دل میں شبہ پیداہوااوروہ ناراض ہوگئے۔اوریمن چونکہ عر ب کاایک حصہ ہے اس لئے یہی بات قرین قیاس معلوم ہوتی ہے۔فَمَكَثَ غَيْرَ بَعِيْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ وَ پس کچھ دیر و ہ ٹھہرا(اتنے میںہدہد حاضر ہوا)اوراس نے کہا کہ میں نے اس چیز کاعلم حاصل کیاہے جو تجھے حاصل جِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍۭ بِنَبَاٍ يَّقِيْنٍ۰۰۲۳اِنِّيْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً نہیں اورمیں سبا(کی قو م کے علاقہ)سے تیرے پاس (آیاہوں )(اور)ایک یقینی خبر لایاہوں۔(جویہ ہے تَمْلِكُهُمْ وَ اُوْتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ وَّ لَهَا عَرْشٌ کہ)میں نے (وہاں)ایک عورت کو دیکھا جو ان (کی ساری قوم)پر حکومت کررہی ہے۔اورہرنعمت اسے عَظِيْمٌ۰۰۲۴وَجَدْتُّهَا وَ قَوْمَهَا يَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ حاصل ہے۔اوراس کا ایک بڑاتخت ہے۔اورمیں نے اس کو اوراس کی قوم کو اللہ کے سوا سور ج کے آگے