تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 78

نے مدین کو شکست دی تھی اور آخری بادشاہ کا نام بھی یہی تھا(Jewish Encyclopedia زیر لفظ Hadad)۔حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ایک لڑکے کا نام بھی ہُدہُد تھا۔(پیدائش باب ۲۵آیت ۱۴) بائیبل کی کتاب نمبر ۱ سلاطین باب ۱۱آیت ۱۴ میں بھی ادوم کے خاندان کے ایک شہزادہ کا ذکر آتا ہے جس کا نام ہددؔ تھا اور جو یو آب کے قتل عام سے ڈر کر مصر بھاگ گیا تھا۔جیوئش انسائیکلوپیڈیا میں لکھا ہے کہ پُرانے عہد نامہ میں جب یہ لفظ اکیلا آوے تو اس کے ساتھ کوئی صفاتی فعل یا لفظ نہ ہوتو اس کے معنے ادومی خاندان کے آدمی کے ہوتے ہیں۔غرض یہ ھُدْ ھُدْ عبرانی زبان کا لفظ ھُدَدْ ہے جو عربی زبان میں آکر ھُدْ ھُدْ ہوگیا۔چونکہ مفسرین کو یہ شوق ہوتا ہے کہ اپنی تفسیر کو دلچسپ بنائیں اس لئے وہ بعض دفعہ بے ہودہ قصے بھی اپنی تفسیروں میں درج کردیتے ہیں۔چنانچہ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ضبّ عربی میں گوہ کو کہتے ہیں۔مگر ضبّ عرب کے ایک قبیلے کے سردار کا بھی نام تھا۔اور یہ ایسا ہی نام ہے جیسا ہندوئوں میں طوطارام نام ہوتا ہے وہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا۔اوراس نے آپ کی مدح میں ایک قصیدہ پڑھا۔اب وعظ کی کتابوں میں اس بات کو ایک قصہ کا رنگ دیتے ہوئے یوں بیان کیا گیا ہے۔کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہیں جارہے تھے کہ راستہ میں ایک سوراخ میں سے گوہ نکلی۔اورا س نے قصیدہ پڑھنا شروع کردیا۔اب جن لوگوں نے یہ بنا لیا کہ ایک گوہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں قصیدہ پڑھا تھا ان کے لئے ہُدہُد کا پرندہ بنا لینا کون سا مشکل کام تھا۔چنانچہ مفسرین لکھتے ہیں کہ حضر ت سلیمان علیہ السلام کوہدہد کے غائب ہونے کا اس طرح پتہ چلا کہ ایک دفعہ چلتے چلتے وہ ایک ایسے میدان میں پہنچے جہاں پانی نہیں ملتاتھا۔نماز کا وقت آیاتو حضرت سلیمان علیہ السلا م نے وضو کرناچاہامگرانہیں پانی نہ ملا۔انہوں نے کہا۔ہدہدکہاں ہے اسے کہو کہ پانی تلاش کرے۔کیونکہ پہلے بھی جب لشکر کوپانی کی ضرورت ہوتی تھی توہدہدہی پا نی کی جگہ بتایا کرتاتھا۔مگر اس روز اسے ڈھونڈا تووہ نہ ملا جس پر حضرت سلیمان علیہ السلام کو غصہ آگیا۔اورانہوں نے کہا کہ ہدہد آیاتومیں اسے شدید سزادوں گا یااسے ذبح کردوں گا(روح المعانی)۔مگر بعض نے اس واقعہ سے اختلاف کیاہے۔وہ کہتے ہیں۔اصل واقعہ یہ نہیں بلکہ بات یہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام پرپرندوں کے جھنڈ ہمیشہ سایہ رکھتے تھے۔ایک دن اچانک ایک سوراخ میں سے دھوپ آگئی۔حضرت سلیمان علیہ السلام نے نظر اٹھا کردیکھا توآپ کو پتہ لگ گیا کہ ہدہد کی جگہ خالی ہے۔(قرطبی) غرض مفسرین نے عجیب وغریب حکایات اپنی تفسیروں میں لکھ دی ہیں حالانکہ حقیقت صرف اتنی ہے کہ قرآن