تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 76
نے معجزہ دکھایا۔(۵)اسی ہدہدکادوسرامعجزہ یہ ہے کہ وہ شرک اورتوحید کے باریک اسرار سے بھی واقف تھا۔اورا س کو وہ و ہ مسئلے معلوم تھے جو آجکل کے مولویوں کو بھی معلوم نہیں۔کتنی اعلیٰ توحیدوہ بیان کرتاہے کہتاہے۔وَجَدْتُّھَا وَقَوْمَھَایَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَزَیَّنَ لَھُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَھُمْ فَصَدَّھُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَھُمْ لَایَھْتَدُوْنَ۔یعنی میں نے اسے اوراس کی قوم کو دیکھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بجائے سورج کوسجدہ کرتے ہیں۔اورشیطان نے ان کے عمل انہیں خوبصورت کرکے دکھائے ہیں اورانہیں سچے راستہ پر چلنے سے روک دیا ہے۔جس کی وجہ سے وہ ہدایت نہیں پاتے۔پھر اس کی غیرت دینی دیکھو آج کل کے مولویوں کے ہمسایہ میں بت پرستی ہورہی ہوتووہ اس کے روکنے کی کوشش نہیں کرتے مگرہدہد چاروں طرف اُڑتاپھرتاہے اور حضرت سلیمان علیہ السلام کوخبردیتاہے کہ فلاں جگہ شرک ہے۔فلاں جگہ بت پرستی ہے۔(۶)پھر وہ سیاسیات سے بھی واقف تھا۔کیونکہ وہ کہتاہے کہ اُوْتِیَتْ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ۔یعنی ملکہ سبا کے پاس بادشاہت کی تمام صفات موجود ہیں۔گویاوہ ا س کے تمام خزانے اور محکمے چیک کرکے آیا۔اوراس نے رپورٹ کی کہ تمام وہ چیزیں جن کی حکومت کے لئے ضرورت ہے وہ اس کے پاس موجود ہیں۔(۷) پھر شیطان اور اس کی کارروائیوں سے بھی وہ خوب واقف ہے۔کیونکہ وہ کہتاہے میں جانتاہوں انسان کا جب شیطان سے تعلق پیداہوجائے توبرے خیالات اس کے دل میں پیدا ہوتے ہیں۔بلکہ وہ ان خیالات کے نتائج سے بھی واقف تھا۔کیونکہ کہتاہے فَصَدَّھُمْ عَنِ السَّبِیْلِ ایسے خیالات کے نتیجہ میں شیطان نےانہیں اللہ تعالیٰ کے قرب کے راستہ سے دور پھینک دیاہے۔یہ ہدہد کیا ہوا۔اچھاخاصہ عالم ٹھہرا۔ایساہدہد اگرآج مل جائے توسارے مولویوں کو نکال کر اسی کومفتی بنادینا چاہیے۔(۸)ہاں ایک بات رہ گئی۔اوروہ یہ کہ و ہ تختِ سلطنت کی حقیقت سے بھی خوب واقف تھا کیونکہ وہ کہتاہے کہ ملکہ سباکے پاس ایک عظیم الشان تخت ہے جوآپ کے پاس نہیں۔گویا وہ لالچ بھی دلاتاہے اورکہتاہے اس پر حملہ کیجئے۔یہ ساری باتیں بتاتی ہیں کہ یہ ہدہد کو ئی پرندہ نہیں تھا۔کیونکہ قرآن میں صاف موجود ہے کہ وہ امانت جسے فرشتے بھی نہ اٹھاسکے۔جسے آسمان اورزمین کی کوئی چیز اٹھانے کے لئے تیار نہ ہوئی۔اسے انسان نے اٹھالیا۔وہی ہے جو ہماری شریعت کے رموز کوجانتاہے۔فرشتہ ایک ہی بات سمجھتاہے یعنی نیکی کی بات کو مگر انسان نیکی اور بدی