تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 3
بنی نوع انسانوں کو بھی عبادت کی طر ف راغب کرکے باجماعت نماز اداکرتے ہیں (جیساکہ یُقِیْمُوْنَ کے لفظ سے ظاہر ہے اوراقامت ہمیشہ نماز باجماعت میں ہی کہی جاتی ہے )اس طرح وہ مومن جن کے لئے قرآن بشارت ہے وہ ہیں جو اپنے اموال میں سے ایک حصہ ہمیشہ خدا تعالیٰ کی راہ میں غریبوں اورناداروں پر خرچ کرنے کے لئے دیتے رہتے ہیں اوروہ یہ خرچ لوگوں کالیڈر بننے کے لئے نہیں کرتے بلکہ اس لئے کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوجائے اوروہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ان کو یقین ہوتاہے کہ خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری کے نتیجہ میں آخر ان کو روحانی اور جسمانی درجات ملیں گے۔(آیت ۳و۴) وہ لوگ جو انجام آخر پر خواہ وہ دنیوی ہو یا اُخروی ایما ن نہیںلاتے ان کو اپنی سب کرتوتیں خوبصورت نظر آتی ہیں اوروہ بہکتے پھرتے ہیں۔ان کو بڑا عذاب ملے گا اوروہ آخر کار ناکام رہیں گے اور نقصان اٹھائیں گے۔(آیت ۵و۶) تجھ پر جو یہ قرآن نازل ہواہے یہ بڑی حکمت والے اورعلم والے خدا کی طرف سے ہے۔اس لئے اس میں بڑی برکتیں ہیں اوربڑی حکمتیں ہیں اوربڑاعلم ہے۔(آیت ۷) موسیٰ ؑکاواقعہ ہم تجھے بتاتے ہیں کہ ایک دفعہ اس نے اپنے گھروالوں سے کہا کہ میں نے دور کچھ آگ دیکھی ہے۔میں وہاں جاکر یاتوکوئی معلومات اس ملک یااس راستہ کی لاتاہوں یاکوئی انگارہ لاتاہوں تاکہ تم آگ سینکو۔(آیت ۸) جب موسیٰ ؑ اس آگ کے پاس آئے توانہیں پکار کرکہا گیا کہ ا س آگ میں جس کا جلوہ نظر آیاہے یعنی خدا تعالیٰ کا وہ بڑی برکت والا ہے اوراس آگ کے ارد گرد کاعلاقہ بھی برکت والا ہے۔یعنی جو لو گ اس کلام کو قبول کریں گے ان کو بھی بڑی برکت ملے گی۔وہ رب العالمین خداجس نے اپنا جلوہ اس آگ میں دکھایا ہے بڑا پاک ہے۔(آیت ۹) پھر کہا گیاکہ اے موسیٰ ؑ!بات یہ ہے کہ میں اللہ ہوں اوربڑاغالب او رحکمت والاہوں۔یعنی جو نظارہ تم نے دیکھا ہے وہ خدا کاجلال ہے اورتُو اپنا عصاپھینک دے۔جب انہوں نے عصاپھینکا تو دیکھا کہ و ہ اس طرح ہلتاتھا جس طرح سانپ ہلتاہے۔موسیٰ ؑ ڈرے اور پیٹھ پھیر کربھاگے۔اس پر ان کو الہام ہواکہ اے موسیٰ ؑ! ڈرنہیں۔ڈر میرے دشمنوں کے لئے ہے۔ڈرمیرے رسولوں کے لئے نہیں۔ہاں اگر کوئی شخص غلطی سے ظلم کرے اورپھر اس کے بعد نیکی اختیار کرے تومیں معاف کرنےوالا اوررحم کرنے والاہوں۔(آیت نمبر ۱۰تا۱۲)