تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 60

وَ حُشِرَ لِسُلَيْمٰنَ جُنُوْدُهٗ مِنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ وَ الطَّيْرِ اور(ایک دفعہ ) سلیمان ؑ کے سامنے جنوں اورانسانوں اورپرندوں میں سے اس کے لشکر ترتیب وار اکھٹے فَهُمْ يُوْزَعُوْنَ۰۰۱۸ کئے گئے۔پھر ان کو کوچ کا حکم ملا۔حلّ لُغَات۔یُوْزَعُوْنَ۔یُوْزَعُوْنَ اَوْزَعَ سے فعل مضارع مجہول جمع مذکر غائب کاصیغہ ہے اوراَوْزَعَ وَزَعَ سے ہے اور وَزَعَہٗ کے معنے ہیں کَفَّہٗ ومَنَعَہٗ وَحَبَسَہٗ۔یعنی اس کوہٹایا۔روکایا روکے رکھا۔اورجب وَزَعَ الْجَیْشَکہیں تواس کے معنے ہوتے ہیں حَبَسَ اَوَّلَھُمْ عَلیٰ اٰخِرِھِمْ یعنی لشکر کواول سے لےکر آخر تک روکے رکھا اورجب کہیں کہ رَأَیْتُہٗ یَزَعُ الْجَیْشَ تومعنے ہوں گے یُرَتِّبُھُمْ وَیُسَوِّیْھِمْ وَیَصُفُّھُمْ لِلْحَرْبِ یعنی میں نے اسے دیکھا کہ وہ لشکر کو ترتیب دے رہاتھا اور انہیں ٹھیک کررہاتھا اورلڑائی کے لئےصف بستہ کررہاتھا۔(اقرب) پس یُوْزَعُوْنَ کے معنے ہوں گے کہ (۱)لشکروں کوترتیب دی جاتی تھی (۲)لشکروںکاپوراپورا انتظام رکھاجاتاتھا۔تفسیر۔فرماتا ہے۔ایک دفعہ سلیمانؑ کے سامنے جنوں اورانسانوں اورپرندوں میں سے اس کے لشکر حاضر کئے گئے اوران کو ترتیب وار الگ الگ کھڑا کیاگیا۔یہ الفاظ دلالت کرتے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام اس وقت کسی ملک پر چڑھائی کرنے کے لئے تیار تھے اورانہوں نے اپنی تمام فوج اکٹھی کی تھی جن میں جنات کابھی لشکر تھا۔انسانوں کابھی لشکر تھا اورپرندوںکا بھی لشکر تھا۔جنّات کا لفظ سامنے آتے ہی مفسرین کاذہن پھر اس طرف منتقل ہو جاتا ہے کہ یہ کوئی غیر مرئی مخلوق ہے جو حضرت سلیمانؑ کے قبضہ میں تھی۔حالانکہ اگروہ قرآن کریم پر غورکرتے توانہیں اس قدر دور از کار تاویلات کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔جنّات کی حقیقت پر غورکرنے کے لئے سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھناچاہیے کہ آیا قرآن کریم میں صرف حضرت سلیمان علیہ السلام کے متعلق ہی یہ ذکرآتاہے کہ ان کے پاس جنّ تھے یاکسی اورنبی کے متعلق بھی کہا گیاہے کہ اس کے پاس جنّ آئے۔اس غرض کے لئے جب ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں تو ہمیںسورۃ احقاف میں یہ آیات نظر آتی ہیں۔وَ اِذْ صَرَفْنَاۤ اِلَيْكَ نَفَرًا مِّنَ الْجِنِّ يَسْتَمِعُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ۚ فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْۤا اَنْصِتُوْا١ۚ فَلَمَّا قُضِيَ وَ لَّوْا اِلٰى