تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 59

میں آتاہے کہ وَ اُوْتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ (آیت ۲۴)حالانکہ وہ دنیا کے ایک نہایت مختصر علاقہ کی بادشاہ تھی۔اگر وَاُوْتِيْنَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ کے معنے ہرچیز کے کئے جائیں توا س آیت کا مفہوم یہ قرار پاتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو ملکہ سبا اور اس کاتخت بھی حاصل تھااورجب ہدہد نے ملکہ کا ذکر کیااورکہا کہ اسے ہرنعمت حاصل ہے تواس کے معنے یہ تھے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام بھی اوران کے لشکر بھی اس کو حاصل تھے حالانکہ یہ دونوں باتیں بالبداہت غلط ہیں۔دراصل عربی زبان کے محاورہ کے مطابق یہ ضروری نہیں ہوتاکہ کُلّ کا لفظ تمام افراد جنس پر مشتمل ہو بلکہ بسا اوقات یہ لفظ صرف ضرورت کے مطابق اشیاء پر بولاجاتاہے۔مثلاً ایک مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ(الانعام :۴۵)یعنی جب پہلی قوموں کے افراد نے اس نصیحت کو بھلادیا جوانہیں کی گئی تھی توہم نے ان پر پہلے توہرقسم کی ترقیات کے دروازے کھول دیئے اورپھران پر عذاب نازل کردیا۔اس آیت میں بھی کلّ کے لفظ کے یہ معنے نہیں کہ ان کو دنیا کی ہرنعمت ملی بلکہ صرف یہ مراد ہے کہ اس زمانہ کی اوران کے ملک کی بڑی بڑی نعمتوں سے انہیں حصہ ملا۔اسی طر ح اہل مکہ کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَوَ لَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا يُّجْبٰۤى اِلَيْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَيْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا (القصص :۵۸)یعنی کیا اہل مکہ کو ہم نے ایک عزت والے اور محفوظ مقا م میں جگہ نہیں دی۔جس کی طرف ہمارے انعام کے طور پر ہرقسم کے میوے لائے جاتے ہیں۔اس آیت میں بھی کلّ سے تمام دنیا کے میوے مراد نہیں بلکہ بہت سے میوے مراد ہیں جواہل مکہ کی صحت اوران کی لذت کے سامان پیداکرنے کے لئے ضروری تھے۔اسی طرح شہد کی مکھی کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کُلِیْ مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ تُوتمام پھلوںکو کھا۔حالانکہ شہد کی مکھی سارے پھلوںکونہیں کھاتی بلکہ بعض پھلوںکوکھاتی ہے۔اسی طرح یہاں وَ اُوْتِيْنَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍکے معنے ہرچیز کے نہیں بلکہ ہرمطابق ضرورت چیز کے ہیں اورمراد یہ ہے کہ جن جن چیزوں کی حضرت سلیمان علیہ السلام کو ضرورت ہوتی تھی خدا تعالیٰ ان کومہیاکردیتاتھا اورجن جن چیزوں کی اپنے زمانہ میں ملکہ سباکو ضرورت ہوتی تھی وہ اس کومیسر آجاتی تھیں چنانچہ یہ دعویٰ کرکے حضرت سلیمان علیہ السلام نے کہا کہ یہ بات اللہ تعالیٰ کے کھلے فضل سے حاصل ہوتی ہے۔بغیر اللہ تعالیٰ کے فضل کے انسانی ضرورتیں پوری نہیں ہوتیں۔