تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 58
حضرت سلیمان علیہ السلام نبی نہیں تھے بلکہ صرف ایک بادشاہ تھے۔چنانچہ بائیبل میں کہیں بھی حضرت سلیمان علیہ السلام کونبی نہیں قرار دیاگیابلکہ ایک فلاسفر اور عالم قراردیاگیاہے۔چنانچہ نمبر۱ سلاطین باب ۴ میں لکھا ہے :۔’’ اورخدا نے سلیمان کوحکمت اور سمجھ بہت ہی زیاد ہ اور دل کی وسعت بھی عنایت کی جیسی سمندرکے کنارے کی ریت ہوتی ہے۔اورسلیمان کی حکمت سب اہل مشرق کی حکمت او رمصر کی ساری حکمت پر فوقیت رکھتی تھی۔‘‘ (آیت ۲۹و۳۰) اسی طرح لکھاہے :۔’’ اس نے تین ہزار مثلیں کہیں او راس کے ایک ہزار پانچ گیت تھے۔اوراس نے درختوں کا یعنی لبنان کے دیودار سے لےکر زوفا تک کاجو دیواروںپراُگتاہے اورچوپائیوں اورپرندوں اوررینگنے والے جانداروں اورمچھلیوں کا بھی بیان کیا۔اورسب قوموں میںسے زمین کے سب بادشاہوں کی طرف سے جنہوں نے اس کی حکمت کی شہرت سنی تھی لوگ سلیمان کی حکمت کو سننے آتے تھے۔‘‘ (آیت ۳۲،۳۳) غرض بائیبل حضر ت سلیمان علیہ السلام کو ایک حکیم اورفلاسفرتوقراردیتی ہے مگرنبی قرار نہیں دیتی۔بلکہ اس سے بڑھ کر وہ حضرت سلیمان علیہ السلام پر یہ الزام لگاتی ہے کہ ’’جب سلیمان بڈھاہوگیا تواس کی بیویو ں نے اس کے دل کو غیر معبودوں کی طرف مائل کرلیا۔اوراس کا دل خداوند اپنے خداکے ساتھ کامل نہ رہا۔‘‘ (نمبر۱ سلاطین باب ۱۱۔آیت ۴،۵) پس اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں اورعیسائیوں کے اس خیال کی تردید کی ہے۔اوربتایاہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نبی تھے اورانہیں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہی علوم اورمعارف عطاکئے گئے تھے جو اللہ تعالیٰ کے ان برگزیدہ بندوں کو عطاکئے جاتے ہیں جواس کی طرف پرواز کرتے اور اس کے قرب میں بہت بلند اور بالامقام رکھتے ہیں۔پھر فرماتے ہیں وَاُوْتِيْنَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ ہمیں ہر ضروری چیز عطا کی گئی ہے۔اس جگہ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ کے معنے ہرچیز کے نہیں بلکہ ہرضروری چیز کے ہیں۔چنانچہ حضر ت سلیمان علیہ السلام کی مدمقابل ملکہ سبا کے متعلق بھی اسی سورۃ