تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 57

انسان بھی تسلیم نہیں کرسکتا۔اگر یہ بات مانی جائے توپھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ پرندے انسان سے افضل ہیں۔اورپھر ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کرناپڑے گا کہ پرندوں کو ذبح کرنا جائز نہیں ہاں انسان کو ذبح کرکے کھاناجائز ہے کیونکہ پرندے نعوذ باللہ انسان سے افضل ہیں۔یہ تو ’’ اندھیر نگری چوپٹ راجہ ‘‘والی بات ہوگی جس کوکوئی بھی معقول انسان تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوسکتا۔حقیقت یہ ہے کہ یہ بھی ایک استعارہ اور مجاز ہے جس کو لوگوں نے نہ سمجھا اوروہ صحیح راستہ سے بھٹک کر دور از کار بحثوں میں الجھ کر رہ گئے۔طیر عربی زبان میں اڑنے والی چیز کو کہتے ہیں۔اوراستعارۃً اس سے وہ لوگ مراد ہوتے ہیں جوعالم روحانی کی فضائوں میں پرواز کرتے اورخدا تعالیٰ کے برگزیدہ اوراس کے محبوب ہوتے ہیں۔بانئے سلسلہ احمدیہ کاایک الہام بھی ان معنوں پر روشنی ڈالتاہے۔آپ کو ایک دفعہ الہام ہواکہ :۔’’ہزاروں آدمی تیرے پروں کے نیچے ہیں ‘‘ (تذکرہ صفحہ ۷۰۳ تاریخ الہام ۹ مارچ ۱۹۰۷ء) اب ظاہر ہے کہ پَر ہمیشہ پرندوں کے ہی ہواکرتے ہیں اورپرندے کے پروں کے نیچے بیٹھنے والے بھی پرندے ہی ہوتے ہیں۔گویا اس الہام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی پرندہ قراردیاگیا۔اورپھر یہ بھی بتایاگیاکہ وہ لوگ جو آپ کی صحبت سے فیض حاصل کرنے والے ہیں۔وہ بھی عالم روحانی کے پرندے ہیں۔اس الہا م نے قرآن کریم کی اس آیت کی تشریح کردی اوربتادیا کہ طیر سے مراد جسمانی پرندے نہیں بلکہ وہ لوگ مراد ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف پرواز کرنے والے ہیں۔ان برگزیدہ لوگوںکو استعارۃً اس لئے بھی پرندہ کہا جاتاہے کہ پرندہ آسمان کی طرف اڑتاہے اور علوم سماوی آسمان سے نیچے کی طرف اترتے ہیں اوریہ ظاہر ہے کہ جب کوئی چیز اوپر سے نیچے کی طرف آرہی ہوگی تووہ سب سے پہلے اسی کو ملے گی جو اوپر پرواز کررہاہوگا۔پس عالم روحانی کی فضائوں میں پرواز کرنے والے کواس لئے بھی پرندہ کہاجاتاہے کہ آسمانی علوم اوراسرار غیبی جواللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتے ہیں وہ سب سے پہلے انہی لوگوںکو الہام یارؤیا وکشوف کے ذریعہ معلوم ہوتے ہیں جواوپر پرواز کررہے ہوں۔اورانہی آسمانی طیور کو اللہ تعالیٰ سب سے پہلے اپنے فیو ض سے متمتع فرماتا ہے۔پھر وہ لوگ جو ان کی صحبت میں آکربیٹھتے ہیں و ہ بھی اپنے اپنے اخلاص اوردرجہ کے مطابق ان فیوض سے مستفیض ہوتے چلے جاتے ہیں۔غرض طیر کے اس مفہوم کو مدنظر رکھتے ہوئے عُلِّمْنَامَنْطِقَ الطَّیْرِ کے یہ معنے ہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے لوگوں سے کہا کہ اے لوگو!مجھے بھی وہ بولی سکھائی گئی ہے جوبلندی کی طرف پرواز کرنے والے لوگوںکو سکھائی جاتی ہے یعنی نبیوں کے معارف اورحقائق اوریہ اس لئے کہاگیاہے کہ یہودیوں اورعیسائیوں کے نزدیک