تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 56
پلنگ پر اورکرسی پر بیٹھی ہے۔کیونکہ ہر شخص جانتاہے کہ آنکھ بیٹھنے کے معنے یہ ہیں کہ آنکھ ضائع ہوگئی۔اورپھوٹ گئی۔اسی طر ح اور کئی قسم کے استعارات ہماری زبان میں استعمال کئے جاتے ہیں اورکوئی ان پر اعتراض نہیں کرتا بلکہ ان استعارات کو زبان کی خوبی اور اس کاکمال سمجھاجاتاہے۔غرض جس طرح دنیا کی ہرزبان میں مجازاوراستعارات کا استعمال پایا جاتا ہے اسی طرح الہامی کتابیں بھی ان استعارات کو استعمال کرتی ہیں۔مگر وہ لو گ جو استعارہ اورمجاز کی حقیقت کو نہیں سمجھتے وہ انہیں ظاہرپر محمول کرلیتے ہیں اوراس طرح خو د بھی ٹھوکر کھاتے ہیں اوردوسروں کے لئے بھی ٹھوکر کا موجب بنتے ہیں۔یہی حال منطق الطیر کا ہے۔مفسرین نے صرف طیر کے لفظ کودیکھ کر خیال کرلیا کہ حضر ت سلیمان علیہ السلام کو امتیازی طور پر اللہ تعالیٰ نے یہ خصوصیت عطا فرمائی تھی کہ انہیں تیتروں اوربٹیروں کی بولی بھی سکھادی تھی مگرسوال یہ ہے کہ اس بولی کے سکھانے کا فائدہ کیاتھا۔یاتویہ تسلیم کیا جائے کہ پرندے بھی بڑے بڑے علوم اورمعارف جانتے ہیں۔اور چونکہ اللہ تعالیٰ نہیں چاہتاتھا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام ا س علم سے محروم رہیں اس لئے اس نے آپ کو ان کی زبان بھی سکھادی۔مگر پرندے تو ایک جاہل سے جاہل او رغبی سے غبی انسان جتنی بھی عقل نہیں رکھتے پھر ان سے حضرت سلیمان علیہ السلام نے کیا علم سیکھناتھا۔پھر اگر ان کا دما غ واقعہ میں اتنا اعلیٰ ہوتا کہ حضرت سلیمانؑ جیسے نبی کو بھی ان سے معارف اورعلوم حاصل کرنے کی ضرورت تھی توشریعت ان کو ذبح کرنے کی اجازت کیوں دیتی۔اللہ تعالیٰ کا انسان کو ذبح کرنے کی اجاز ت نہ دینا اورجانوروں کی ذبح کرنے کی اجازت دینا صاف بتارہاہے کہ یہ امتیاز صرف دماغ کے فرق کی وجہ سے رکھا گیاہے۔اوران کا دماغ عام انسانی دماغ سے بھی ادنیٰ ہے تو حضرت سلیمان علیہ السلام کو ان کی زبان کس حکمت کے ماتحت سکھائی گئی تھی۔پھر مفسرین صرف یہیں تک بس نہیں کرتے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو تمام پرندوں کی بولیاں سکھائی گئی تھیں بلکہ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہُدہُد جو ایک پرندہ تھا و ہ اتنی عقل اورسمجھ رکھتاتھاکہ اس نے ملکہ سباکی باتیں سمجھیں۔اس کے درباریوں کی باتیں سمجھیں حضرت سلیمان علیہ السلام کی باتیں سمجھیں۔مگر ہُد ہُد کی باتیں حضرت سلیمان علیہ السلام کے سوااَورکوئی نہیں سمجھ سکتاتھا۔گویا ایک پرندہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے تمام درباری علماء اورفضلاء سے بھی بڑاتھا۔کیونکہ وہ ان سب کی باتیں سمجھتاتھا لیکن اس کی بات کو کوئی نہیں سمجھتاتھا اوراگر کوئی سمجھتاتھا تووہ صرف حضرت سلیمانؑ تھے۔گویا اگر ہدہد سے کسی کو برابری حاصل تھی توصرف حضرت سلیمان علیہ السلام کو تھی باقی جتنے امراء اور وزراء تھے و ہ سب اُس ’’کھٹ بڑھئی‘‘سے نیچے تھے۔یہ اتنا احمقانہ نقشہ ہے کہ ا س کو ایک معمولی عقل رکھنے والا