تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 2
و ہ ہروادی میں بہکتے پھرتے ہیں اورجوکچھ کہتے ہیں اس پر عمل نہیں کرتے۔اب اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس سورۃ کی آیتیں ایک ایسی کتاب کی آیتیں ہیں جو ہمیشہ پڑھی جاتی رہے گی اورجوتمام دینی امور کو خوب کھو ل کر اوربادلیل بیان کرتی ہے اورجومومنوں کو سچاراستہ دکھانے والی ہے اورجو اس پر عمل کرتے ہیں ان کو نیک انجام کی خبردیتی ہے۔اس لئے یہ شیطانی تعلیم نہیں ہوسکتی کیونکہ شیطان نہ سچاراستہ دکھاتاہے نہ اس کی تعلیم پرچل کرکو ئی شخص خدا کی رحمت اوربرکت حاصل کرتاہے۔اسی طرح اس کتاب پر ایمان لانے والے وہ ہیں جو خدا کی عبادت کرتے اورزکوٰۃ دیتے ہیں اوربعد میں آنے والے کلام پر یابعد میں آنے والی زندگی پر بھی یقین رکھتے ہیں۔یعنی اول توشیطان کی نازل کردہ تعلیم میں جھوٹ ہوتاہے ہدایت نہیں ہوتی دوسرے اس تعلیم کے متبع ہدایت سے بہکے ہوئے ہوتے ہیں اورنیکوکار نہیں ہوتے۔لیکن اس کتاب میں ہدایت ہے اورسچائیاں ہیں اوراس کے ماننے والے لوگ خدا تعالیٰ کی بھی عبادت کرتے ہیں اوربندوں کے ساتھ بھی حسن سلوک کرتے ہیں اور ہمیشہ ہی خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والی باتوں کے ماننے کے لئے تیار رہتے ہیں۔اسی طرح دوسری زندگی کااحساس بھی ہروقت ان کے دل میں رہتاہے۔پس نہ تومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر شیطان اُتر سکتے ہیں جوایسی کتاب لائے ہیں جوہدایت اوربشارت ہے اورنہ آپ کو شاعر کہاجاسکتاہے۔کیونکہ آپ کے ماننے والے انسانوں کی ہمدردی اورخدا تعالیٰ کی محبت کاایک اعلیٰ نمونہ پیش کرتے ہیں۔اورشاعرنہ خود عمل کرتاہے اورنہ اس کے اتباع عمل کرتے ہیں۔خلاصہ مضامین اس سورۃ کے شروع میں طٰسٓ حروف مقطعات میں سے آئے ہیں۔چونکہ یہی حروف مقطعات م کی زیادتی کے ساتھ سورئہ شعراء سے بھی پہلے آئے ہیں اس لئے یہ سورۃ سورئہ شعراء کے مضمون کے سلسلہ میں ہی ہے۔طٰسٓ میں ط لطیف کاقائم مقام ہے اورس سَمِیع کا۔پھر فرماتا ہے۔تِلْکَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ وَکِتَابٍ مُّبِیْنٍ۔اس سورۃ میں جوآیتیں بیان کی گئی ہیں وہ قرآن کاحصہ ہیں اورایک ایسی کتاب کی آیتیں ہیں جو اپنی دلیلیں خود بیان کرتی ہے اوریہ کتاب کامل ہدایت بھی ہے جیسا کہ ھُدًی کی تنوین سے جواس کو نکرہ بناتی ہے ظاہر ہے اورنکرہ عظمت کے لئے آیاکرتاہے۔(کتاب العروس للسبکی شرح مختصر المعانی جزو اول ص ۳۴۹) پھر فرماتا ہے کہ یہ کتاب مومنوں کے لئے بشارت کاموجب ہے۔ایسے مومنوں کے لئے جو اپنی بدنی عبادتوں کو خدا تعالیٰ کے حضور میں ہمیشہ پیش کرتے رہتے ہیں اوراکیلے ہی عبادت نہیں کرتے بلکہ دوسرے