تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 1
سُوْرَۃُ النَّمْلِ سورئہ نمل مَکِیَّۃٌ وَھِیَ مَعَ الْبَسْمَلَۃِ اَرْبَعٌ وَتِسْعُوْنَ اٰیَۃً وَسَبْعَۃُ رُکُوْعَاتٍ یہ سورۃ مکی ہے۔اوربسم اللہ سمیت اس کی چورانوے(۹۴) آیتیںاور سات (۷) رکوع ہیں۔وقت تنزیل اس سورۃ کو ابن عباسؓ اورابن زبیر ؓ نے مکی قراردیاہے اورباقی مسلمان علماء بھی اسی کی تصدیق کرتے ہیں۔وہیریؔ نے بھی اسے مکی ہی قرار دیاہے (فتح البیان ،تفسیر القرآن ازویری)۔قریبی تعلق اس سورۃ کاسورئہ شعراء سے قریبی تعلق یہ ہے کہ سورئہ شعراء کے آخر میں یہ بتایاگیاتھا کہ مومن غالب آئیں گے اورکفار خدا تعالیٰ کی قدیم سنت کے مطابق تباہ ہوںگے مگرچونکہ مضمون کفار کی تباہی کا تھاسورۃ کاسارا زور اس قانون الٰہی کی تفصیل میں تھا کہ کفار ہمیشہ تباہ ہوتے چلے آئے ہیں اب کیوں تباہ نہ ہوں گے۔سورئہ نمل میں اس مضمون کے دوسرے مخفی پہلو کو زیادہ واضح کیاگیاہے کہ مومن باوجود کمزور ہونے کے ترقی پاتے رہے ہیں۔کفار کی تباہی کا ذکر بے شک سورۃ کے آخر میں کیاگیاہے لیکن زیادہ زور اس سورۃ میں اس اصول پر ہے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کی آواز سن کر عقیدئہ ذہنی اورفکری اور اخلاق اور نظام الٰہی کو قبول کرتے رہے ہیں وہ ہمیشہ عزت پاتے رہے ہیں۔اسی سلسلہ میں یہ بھی بتایاگیاہے کہ مسلمانوں کی ترقی عارضی نہ ہوگی بلکہ ایک لمبے عرصہ تک وہ ترقی کرتے چلے جائیں گے اوربنی اسرائیل کی طرح صرف اپنے ہی ملک کے بادشاہ نہیں ہوں گے بلکہ غیر ملکوں کے بھی بادشاہ ہوںگے۔اس سورۃ کا سورئہ شعراء سے دوسراتعلق یہ ہے کہ سورئہ شعراء کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایاتھا کہ لوگ اس نبی کو شاعرکہتے ہیں اورکہتے ہیں کہ اس پر شیطان نازل ہوتاہے حالانکہ شیطان جھوٹ بولنے والے اورگنہگار پر نازل ہواکرتاہے۔اورپھرشیطانوں کاطریق یہ ہے کہ وہ خدائی تعلیمات کو سن کر انہیں لوگوں کے سامنے اپنی طرف سے پیش کرتے ہیں۔لیکن ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں۔یعنی آسمانی تعلیموں میں جھوٹ ملادیتے ہیں۔اس لئے وہ تعلیمات نتیجہ خیز نہیں ہوتیں اورشعراء جو کہ شیطانوں کی پیروی کرتے ہیں ان کے پیچھے صرف گمراہ لو گ چلتے ہیں کیونکہ وہ کسی مقصد کو لے کر کھڑے نہیں ہوتے صرف دلچسپ باتیں کرنے کاانہیں شوق ہوتاہے۔کیاتُو دیکھتانہیں کہ