تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 45

آگ کے پاس جا کر یا تو میں کوئی خبر لائوں گا یعنی تم کو یہ بتائوں گا کہ خدا تعالیٰ نے مجھ پر یہ فضل نازل فرمایا ہے۔اوراگر وہ نور خاندان اورقوم کے لئے ہوایعنی یہ جلوہ جلوئہ ولائت نہ ہوا بلکہ جلوئہ نبوت ہوااورمجھے حکم ہواکہ دوسروں کو بھی تعلیم دو تومیں ایسی تعلیمات لائوں گا جن سے خاندا ن اور قوم فائدہ اٹھائے اوران سے گرمی حاصل کرے۔فَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِيَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِي النَّارِ وَ مَنْ پھر جب و ہ اس (یعنی آگ ) کے پا س آئے توان کو آواز دی گئی کہ جو کوئی آگ میں ہے اورجو اس کے گر د ہے حَوْلَهَا١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۰۰۹ اس کو برکت دی گئی ہے۔اوراللہ رب العالمین پاک ہے۔تفسیر۔اپنے رشتہ داروں کو ہوشیار کرکے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اس جگہ پہنچے جہاں ان کو و ہ نظارہ دکھایاگیاتھاتوان کو الہام ہواکہ بُوْرِکَ مَنْ فِی النَّارِ وَمَنْ حَوْلَھَا یعنی جو شخص اس آگ میں ہے اسے بھی برکت دی گئی ہے اورجو اس کے ماحول میں ہے اسے بھی برکت دی گئی ہے۔بعض مفسرین نے اس کے یہ معنے کئےہیں کہ اس آگ میں اللہ تعالیٰ کا وجود تھا۔اورتورات نے بھی یہی نظریہ پیش کیا ہے۔چنانچہ خروج باب۳ میں لکھا ہے :۔’’ خداوند کا فرشتہ ایک بوٹے میں سے آگ کے شعلہ میں اس پر ظاہر ہوا۔اس نے نگاہ کی توکیادیکھتاہے کہ ایک بوٹا آگ میں روشن ہے اوروہ جل نہیں جاتا۔تب موسیٰ نے کہا کہ میں اب نزدیک جائو ں اوراس بڑے منظر کو دیکھو ں کہ یہ بوٹا کیوں نہیں جل جاتا۔جب خداوند نے دیکھا کہ وہ دیکھنے کو نزدیک آیا تو خدا نے اس بوٹے کے اند ر سے پکاراا ور کہا کہ اے موسیٰ! اے موسیٰ! وہ بولا۔میں یہاں ہوں۔تب اس نے کہا۔یہاں نزدیک مت آ۔اپنے پائوں سے جوتااتار۔کیونکہ یہ جگہ جہاں توکھڑا ہے مقدس زمین ہے۔‘‘ (خروج باب۳ آیت ۲تا ۵) مگرقرآن اس نظر یہ کو تسلیم نہیں کرتا۔کیونکہ وہ فرماتا ہے کہ موسیٰ پر ہم نے یہ الہا م نازل کیا کہ بُوْرِکَ مَنْ فِی النَّارِ وَمَنْ حَوْلَھَا کہ وہ جو اس آگ میں ہے اسے بھی برکت دی گئی ہے اور اس کے ماحول کو بھی برکت دی گئی ہے۔حالانکہ خدا تعالیٰ دوسروں کو خودبرکت دیتاہے۔اسے کوئی اَور برکت نہیں دیتا۔گویا وہ تبارک تو کہلاسکتاہے مگر بُوْرِکَ