تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 484
تواللہ تعالیٰ تمہیں ہرمیدان میں کامیابی عطافرمائے گا۔اوروہ تمہارے لئے ایسی غیرت دکھائے گا کہ کوئی ماں اپنے بچے کے لئے بھی ایسی غیرت نہیں دکھاسکتی۔ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ تم خدا تعالیٰ پر سچاایمان رکھو اوراس کے دین کی خاطر کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کرو۔مُحْسِن کے معنے عربی زبان میں اس شخص کے ہوتے ہیں جوحکم کواس کی تمام شرائط کے ساتھ پوراکرے۔پس اِنَّ اللّٰہَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ جو لوگ اس پہلی بات پر پوری طرح عمل کریں گے جوہم نے کہی ہے یعنی وہ پوری طرح جہاد کریں گے اورہماری رضاکے حصول کی کوشش کریں گے ہم ان کے ساتھ ہوں گے۔اورہرمیدان میں ان کوکامیابی بخشیں گے۔پس جو لوگ اللہ تعالیٰ کی رضاحاصل کرنے کی کوشش توکریں مگران کی کوششوں کاکوئی نتیجہ نہ نکلے انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ وہ کوئی نہ کوئی غلطی کررہے ہیں جس کی وجہ سے وہ خدائی قرب اور اس کی نصرت سے محروم ہیں۔گویابجائے اس کے کہ خدا تعالیٰ پر الزام لگایاجائے اورکہا جائے کہ اس نے ہماری طر ف توجہ نہیں کی ہمیں اپنی ذات پر الزام لگاناچاہیے اورسمجھ لینا چاہیے کہ ہم محسنوں والاکام نہیں کررہے۔ورنہ خداجھوٹانہیں ہوسکتا۔وہ اپنے وعدوں میں سچاہےاوروہ جوبات بھی کہتاہے اسے پوراکرکے رہتاہے۔جھوٹے ہم ہی ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کی محبت کاتودعویٰ کرتے ہیں مگراس کے مطابق اپنے اندرکوئی تغیرپیدا نہیں کرتے۔احادیث میں آتاہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پا س ایک شخص آیا اوراس نے کہا۔یارسول اللہ! میرے بھائی کودست آرہے ہیں۔چونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ شہد میں شفاء ہے (نحل ع۹) اس لئے آپؐ نے فرمایا کہ اپنے بھائی کو شہد پلائو۔حالانکہ طبی طور پر شہد دست لاتاہے۔انہیں بند نہیں کرتا و ہ گیااوراس نے جاکر شہد پلادیا مگراس کے بھائی کے دست اَوربھی بڑھ گئے۔و ہ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اورکہنے لگا۔یارسول اللہ میرے بھائی کے دست تو اَورزیادہ ہوگئے ہیں۔آپؐ نے فرمایا جائو اورشہد پلائو۔و ہ گیااورپھر اس نے شہد پلادیا۔جس پر اس کے اسہال اور بھی بڑھ گئے۔وہ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔اوراس نے کہا یارسول اللہ اس کوتواورزیادہ دست آنے لگ گئے ہیں۔آپؐ نے فرمایاکہ تیرے بھائی کاپیٹ جھوٹاہے اور خدا سچا ہے۔جائو اس کواور شہد پلائو۔چنانچہ اس نے پھر شہد پلایاجس کانتیجہ یہ ہواکہ اس کے اندر سے ایک بڑاساسدّہ نکلااور اس کے اسہال جاتے رہے۔اسی طرح اگرہماری کوششوں کاکوئی نتیجہ نہ نکلے توہم اپنے متعلق کہیںگے کہ ہم جھوٹے ہیں اورہم نے وہ شرطیں پو ری نہیں کیں جن کے پوراکر نے سے اللہ تعالیٰ کاقرب حاصل ہوسکتاتھاورنہ