تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 483 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 483

جائیں گے۔گویاخدا تعالیٰ کاایک ہی راستہ ہے اورشیطان کے کئی راستے ہیں۔مگر سُبُلَنَا میں بتایاگیاہے کہ خدا تعالیٰ کے بھی کئی راستے ہیں۔سواس کے متعلق یاد رکھناچاہیے کہ ان دونوں آیتوں میں کوئی حقیقی اختلاف نہیں۔بلکہ جہاں ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًافَاتَّبِعُوْہُ کہاگیا ہے۔وہاںیہ مراد ہے کہ خداتک پہنچنے کے لئے مختلف مذاہب کے قبول کرنے کی ضرورت نہیں صرف اسلام ہی ایک ایسامذہب ہے جس پر چل کر انسان خداتک پہنچ سکتاہے اور سُبُلَنَا سے یہ مراد ہے کہ روحانی ترقیات کے غیر محدود راستے ہیں اورایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسراراستہ آجاتاہے۔جب مومن خدتعالیٰ تک پہنچانے والے ایک راستہ پر چلتے ہیں تو انہیں قر ب کے اورراستے بتائے جاتے ہیں اورجب وہ ان پر بھی چلناشروع کردیتے ہیں تواللہ تعالیٰ ان کی ترقی کے اورمواقع پیداکردیتاہے۔اس طرح قدم بہ قدم وہ نیکی اورعرفان کے میدان میں بڑھتے چلے جاتے ہیں۔بعض لو گ اس آیت سے یہ بھی استدلال کرتے ہیں کہ نعوذباللہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا اورآپؐ کے احکام پرعمل کرناضروری نہیں بلکہ ہندوعیسائی سکھ اور پارسی وغیرہ اپنے اپنے طریق پرچل کربھی نجات حاصل کرسکتے ہیں۔مگریہ درست نہیں۔کیونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ صراحتاً فرماتا ہے کہ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ۔یعنی اے محمد ؐرسول اللہ! تُولوگوں سے کہہ دے کہ اگرتم اللہ تعالیٰ کے محبوب بنناچاہتے ہو تو میری پیروی کرو۔اس کانتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ بھی تم سے محبت کرنے لگ جائے گا۔پس یہ ہرگز درست نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے بغیر بھی خدامل سکتاہیں۔اس آیت کاصرف یہ مطلب ہے کہ جب کو ئی شخص سچے دل سے کوشش کرتاہے تواللہ تعالیٰ اسے ہدایت کاراستہ بتادیتاہے اوروہ ہدایت اس طرح ملتی ہے کہ یاتورؤیا اورکشوف کے ذریعہ ایسے شخص پر اسلام کی صداقت کھو ل دی جاتی ہے اوریاپھر اس کے دل میں اسلام اورمحمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محبت پیداکردی جاتی ہے اوروہ آپ کو قبول کرکے اورآپؐ کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل کرکے اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرلیتا ہے۔ورنہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی اوراسلام کی متابعت کے بغیر کبھی نجات حاصل نہیں ہوسکتی۔آخر میں وَاِنَّ اللّٰہَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ۔فرماکراللہ تعالیٰ نے ان تمام ابتلائوں اورآفات کی طرف اشارہ فرما دیا جن کااس سور ۃ کے شروع سے ذکر چلاآرہاہے اوربتایا ہے کہ تم پھونکوں سے ہنڈیانہیں پکاسکتے۔تم خلال سے پہاڑ نہیں کھودسکتے۔تم تنکے پر بیٹھ کر دریاپار نہیں کرسکتے۔تم اگراللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرناچاہتے ہو توتمہیں ہرقسم کے امتحانوں میں ثابت قدم رہنا پڑےگااورقربانیوں کی آگ میں متواتراپنے آپ کو جھونکنا پڑے گا۔اگرایساکرلو گے