تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 482
جو لوگ اس مقصد کے لئے سچی کوشش کریں ہم ذمہ وار ہیں کہ ان کو یہ مقصد حاصل ہوجائے گا۔گویاقرآن کریم اطمینان قلب کی ذمہ واری لیتا ہے۔پہلی آیت میں تووہ یہ ہدایت دیتاہے کہ انسان کو یہ مدنظر رکھناچاہیے کہ اس دنیا میں میری پیدائش کسی اعلیٰ مقصد کے لئے ہے۔اوروہ مقصد یہ ہے کہ صفات الٰہیہ کو میںاپنے اندر پیداکرلوں۔یادوسرے لفظوں میں خدا تعالیٰ کے لئے آئینہ بن جائو ں جس میں اس کی صورت نظر آئے۔اوردوسری آیت میں یہ بتایاہے کہ اس مقصد کے حاصل کرنے میں اگرسچی نیت سے کوئی کوشش کرے گا تومیں اس کو ضرو رکامیاب کردو ں گا۔ظاہر ہے کہ اگر کوئی شخص یہ بات سمجھ جائے کہ میں فانی نہیں ہوں۔ا س لئے مجھے فانی چیزوں کی خواہش اتنی نہیں کرنی چاہیے۔صرف میراجسم فانی ہے اس کے لئے میں کچھ فانی چیزوں کے لئے کوشش کرلوں توکرلو ں۔میری روح فانی نہیں ہے اس کے لئے میں غیر فانی اخلاق کی جستجو کروں گا۔اورپھر خدا کی مددسے اس کی یہ جستجو پوری بھی ہوجائے توچونکہ اس کی تمناپوری ہوجائے گی اسے اطمینا ن قلب بھی حاصل ہوجائے گا۔لیکن اگروہ بندرکی طرح درخت کی شاخوں پر ناچتا پھر ے گا اوراپنی لافانی ہستی کو بھول کر فانی جسم کے لئے فانی لذتوں کی تلاش میں لگارہے گا۔تواتنی چیزوں کی خواہش اسے پیداہوجائے گی کہ وہ اسے پوراکرنے کے قابل نہیں ہوسکے گا۔اوران چیزوں کی تلاش میں خدا تعالیٰ کی مددبھی اسے حاصل نہیں ہوگی۔اس لئے ا س کی ناکامیوں کی تعدا د کامیابیوں سے بڑھ جائے گی اوراطمینانِ قلب حاصل نہیں ہوسکے گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض لو گ خدا تعالیٰ کی طرف سے دلی یکسوئی CONCENTRATION OF MIND کابڑاحصہ پاتے ہیں۔وہ لوگ کبھی کوئی سیاسی مقصد اپنے سامنے رکھ لیتے ہیں۔کبھی تعلیمی مقصد اپنے سامنے رکھ لیتے ہیں۔کبھی تمدنی مقصد اپنے سامنے رکھ لیتے ہیں اورمتواترکوششوں سے کچھ کامیابیاں بھی دیکھ لیتے ہیں۔ان لوگوں کو بھی ظاہری طور پر اطمینان قلب حاصل ہو جاتا ہے۔لیکن یہ اطمینان قلب ایسا ہی ہوتاہے جیسے بچہ کو کھلونامل جانے سے ہوتاہے۔ان کے اطمینا ن قلب کی وجہ مقاصد عالیہ کاپورا ہونانہیںہوتا بلکہ مقاصد عالیہ کو بھلادیناہوتاہے۔وہ فکری افیون کاشکار ہوتے ہیں۔ان کا دماغ انہیں فکری افیون کھلادیتاہے اوروہ درد کی موجودگی میں اس کے احساس سے محروم ہوجاتے ہیں۔سُبُلَنَا کے متعلق بعض لوگ سوال کیاکرتے ہیں کہ قرآن کریم میں تواللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًافَاتَّبِعُوْہُ وَلَاتَتَّبِعُواالسُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ(الانعام :۱۵۴)یعنی یقیناً یہ میراسیدھاراستہ ہے پس اس کی اتباع کرو۔اورمختلف راستوں کے پیچھے نہ پڑو۔ورنہ وہ تمہیں خدا تعالیٰ کے راستہ سے ادھر ادھر لے