تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 474
غرض مشرک قوموں میں ایک خرابی تویہ پائی جاتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر افتراء کرتے ہوئے محض جھوٹے طورپر اس کی طرف بیٹے یابیٹیاں یابعض اورشریک منسوب کردیتے ہیں۔اوردوسری خرابی یہ پائی جاتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہوئی ہدایت ان کے سامنے پیش کی جاتی ہے توو ہ اس کاانکار کردیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے لوگ جو ایک طرف تو خدا تعالیٰ پربہتان باندھتے ہوئے نہ شرمائیں اوردوسری طرف سچائی کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہو ں وہ اگراپنی کامیابی کا تصورکریں تویہ محض ان کی خوش فہمی ہے۔کامیابی کاگُر یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے سچاتعلق پیدا کیاجائے اور اس کی طرف سے آنے والی ہدایت کو قبول کیاجائے اور چونکہ یہ دونوں خوبیاں مسلمانوں میں پائی جاتی ہیں اس لئے اب الٰہی فیصلہ مسلمانوں کے حق میں صادر ہونے والا ہے اورکفرکے لئے ناکامی کی موت کے سوااور کچھ مقدر نہیں۔وَ الَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ اوروہ(لوگ)جوہم سے ملنے کی کو شش کرتے ہیں۔ہم ان کو ضرور اپنے رستوں کی طرف آنے کی توفیق لَمَعَ الْمُحْسِنِيْنَؒ۰۰۷۰ بخشیں گے۔اوراللہ(تعالیٰ) یقیناً محسنوں کے ساتھ ہے۔تفسیر۔کفار کی ناکامی اور کفر وشرک کی تباہی کی پیشگوئی کرنے کے بعد اب اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے حسن انجام کا ذکرفرماتا ہے جنہوں نے اس کی خاطر ہرقسم کے ابتلائوں کوبرداشت کیا۔مگران کے پائے ثبات میں لغزش پیدانہ ہوئی۔اوروہ خدااور اس کے رسول کے لئے متواتر قربانیاں کرتے چلے گئے۔فرماتا ہے۔وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْافِیْنَا وہ لوگ جوہماری محبت میں محو ہوکر ہمارے قرب کے حصول کے لئے کوشش کرتے ہیں اورہمارے دروازہ پر ہروقت گرے رہتے ہیں لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا ہماراسلوک ان سے یہ ہوتاہے کہ ہم انہیں یکے بعد دیگرے کامیابی اورعروج کے غیر متناہی راستوں کی طرف بڑھاتے چلے جاتے ہیں۔گویادشمن توچاہتاہے کہ ان پر ہرقسم کی ترقیات کے دروازے بندکردے۔مگرخدا تعالیٰ کاسلوک ان سے یہ ہوتاہے کہ دشمن اگرایک دروازہ بندکرتاہے تو خدا تعالیٰ ان کے لئے سودروازے کھول دیتاہے اوراس طرح نہ صرف انہیں اپنے دنیوی مقاصد میں کامیابی ہوتی ہے بلکہ وہ خدا تعالیٰ کے قرب میں بھی بڑھتے چلے جاتے ہیں۔اوران کاہرقدم انہیں زیادہ سے زیادہ خدائی برکات