تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 467 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 467

ہیں اورصرف خدا تعالیٰ ہی اس کے سامنے رہ جاتاہے۔زیر تفسیرآیت میں اللہ تعالیٰ نے یہی مضمون بیان فرمایا ہے کہ ایسے وقت مشرک اور دہریہ بھی بے اختیار ہوکر خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔چنانچہ اس کی مثال دی ہے کہ جب طوفان پیدا ہوتاہے تومشرک بھی کہہ اٹھتے ہیں کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کے سواکوئی بچانے والانہیںاس وقت انسان کا قلب اور احساسات پورے طور پر یقین رکھتے ہیںکہ خدا تعالیٰ کے سواکوئی بچانے ک طاقت نہیں رکھتا۔۱۹۰۵؁ء کازلزلہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلا م کی پیشگوئی کے مطابق آیا۔اس وقت لاہور میڈیکل کالج میں ایک طالب علم تھا جو روزانہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ خدا تعالیٰ کی ہستی کے متعلق بحث کیاکرتاتھا۔جب زلزلہ آیااوراس نے محسوس کیاکہ اب چھت گر کے ہی رہے گی تووہ بے اختیار رام رام کہتے ہو ئے کمرہ سے بھاگ کرباہر آگیا۔اگلے دن اس کے دوستوں نے اس سے پوچھا کہ تمہیں اس وقت کیاہوگیا تھااور تم نے کیوں رام رام کہناشروع کردیاتھا۔اس نے کہا۔معلوم نہیں اس وقت کچھ عقل ہی مار ی گئی تھی۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس وقت اس نے صحیح عقل سے کام لیا۔جب بچانے والے دنیوی اسباب اس کی نظر سے پوشیدہ ہوگئے تواسے ذاتِ باری کے سوا کوئی مددگار دکھائی نہ دیا۔دراصل جب تک ایسے انسان کو دوسرے ذرائع نظر آتے رہیں وہ ادھر متوجہ رہتاہے۔لیکن جب کوئی اَورذریعہ نظر نہ آئے تو اس وقت صرف اللہ تعالیٰ کی طرف ہی اس کی نظر اٹھتی ہے۔۱۹۱۸ ؁ء میں جب جرمنی نے اپنی ساری طاقت جمع کرکے اتحادی افواج پر حملہ کردیاتوانگریزی فوج پر ایک وقت ایساآیاکہ کوئی صورت اس کے بچائو کی نہ رہی۔سات میل لمبی لائن تہ و بالاہوگئی۔کچھ حصہ فوج کاایک طرف سمٹ گیا اور کچھ حصہ دوسری طرف اوردرمیان میں اتنا خلاپیداہوگیاکہ جرمنی کی افواج وہاں سے گذرکرپیچھے سے حملہ کرکے تمام فوج کو تباہ کرسکتی تھیں۔اس وقت جرنیل نے کمانڈر انچیف کواطلاع دی کہ یہ حالت ہے اور میرے پاس سپاہی اتنے نہیں کہ اس صف کو درست کیاجاسکے۔یہ ایسی حالت تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ آج ہماری تمام فوج تباہ ہوجائے گی اورانگلستان اورفرانس کانام و نشان دنیاسے مٹ جائے گا۔انگریزی کمانڈر انچیف نے ا س وقت وزارت کو تاردیا کہ یہ وقت انتہائی بے بسی کاہے۔ہماری صف ٹوٹ چکی ہے اور ہرلمحہ تباہی کاخطرہ لاحق ہے۔جب یہ تار پہنچا تو وزیراعظم دوسرے وزراء کے ساتھ مل کرکوئی مشورہ کررہاتھا۔اس وقت مادہ پرست یورپ جس کی نگاہ کبھی خدا تعالیٰ کی طرف نہیں اٹھتی اس کی ایک زبردست مادہ پرست حکومت کاسب سے بڑاسردار جو اپنی طاقت وقوت اورشان وشوکت کے گھمنڈ میں مست رہتاتھااس نے بھی محسوس کیا کہ اس وقت کوئی ظاہری مدد نہیں جو ہمیں اس مصیبت سے نجات دلاسکے۔اس نے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھااور کہا۔آئو خدا سے دعاکریں کہ وہ ہماری مددکرے۔چنانچہ