تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 456
ہواکی صور ت میں نکلے گا جس میں مُشک کی خوشبو ہوگی۔پس جب باغ سڑے گانہیں اورپاخانہ پیشاب بھی نہ ہوگاتوجنت بھی پا ک رہے گی اوراسی طرح مکان بھی کیونکہ اندر رہنے والے کو جب میل سے صاف رکھاجائے گا تومکان کو صاف رکھ کر ہی ایساکیاجاسکتاہے۔پس تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَاالْاَنْھٰرُ اور تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھِمُ الْاَنْھٰرُ کے معنے قرآن سے صاف رکھنے اور قائم رکھنے کے ثابت ہوگئے اوریہی معنے یہاں چسپاں ہوتے ہیں۔ورنہ آدمیوں اور مکانوں کے نیچے نہروںکے معنے ظاہری رنگ میں چسپاں نہیں ہوسکتے۔سوائے اس کے کہ یوں معنے کئے جائیں کہ نہریں ان کے قبضہء و تصرف میں ہوں گی مگراس صورت میں تینوں کے لئے الگ الگ کہنے کی ضرورت نہ تھی۔پھر الَّذِيْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ۔کہہ کر بتایاکہ یہ جزائے نیک ان کو اس لئے ملے گی کہ وہ ہرقسم کی مشکلات اور دشمنوں کی مخالفت کے باوجود اپنے عقائد پرمضبوطی سے قائم رہے اورانہوں نے اپنے رب پر سچا توکل رکھا۔وَ كَاَيِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا١ۗۖ اَللّٰهُ يَرْزُقُهَا وَ اس دنیا میں بہت سے جانو ر بھی ہیں جو اپنے ساتھ (انسانوں کی طرح )اپنا رزق نہیں اٹھائے پھر تے۔اللہ ہی ان کو اِيَّاكُمْ١ۖٞ وَ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۰۰۶۱ رزق دیتاہے اور تم کوبھی۔اور وہ بہت دعائیں سننے والا (اور )حالات سے خوب آگا ہ ہے۔تفسیر۔ایک اَو رمشکل جو بسا اوقات کمزو رانسان کے قد م کو ڈگمگادیتی اوراسے اپنے آپ کو قربانیوں کی آگ میں جھونکنے سے روکتی ہے وہ مالی مشکلات ہیں۔ایک طرف دنیااپنے پور ے حسن کے ساتھ اس کے سامنے کھڑی ہوتی ہے اوردوسری طر ف خدا تعالیٰ کادین اسے آواز دے رہاہوتاہے کہ آئو اورمیری مددکرو۔وہ دنیاکی طرف جھانکتاہے تووہ اسے مال و دولت اورزیب و زینت کے ساتھ آراستہ و پیراستہ نظر آتی ہے۔اور دین کی طر ف دیکھتاہے تووہاں اسے روپوئوں کی جھنکار سنائی نہیں دیتی۔یہ دیکھ کرایک کمزو رانسان کا دل دہل جاتاہے۔اوروہ کہتا ہے میں خداکے لئے اپنی زندگی کو کس طرح وقف کروں۔میں نے خداکے لئے اپنے آپ کو وقف کردیاتومیں بھوکامر جائوں گا۔میری بیوی بچے کیا کھائیں گے۔ہم اپنا معیار زندگی کس طرح قائم رکھ سکیں گے۔اوراگریہ لالچ