تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 444 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 444

اوروہ معارف اورحقائق کاایک ایساخزانہ ہے جو کبھی ختم ہونے میں نہیں آسکتا۔مگربدقسمتی سے مسلمانوں میں جہاں اور بہت سی خرابیاں پیداہوئیں وہاں انہوں نے اس قرآنی حسن سے بھی اپنی آنکھیں بند کرلیں اوریہ کہناشروع کردیاکہ تفسیر بیضاوی اور جلالین وغیرہ میں جو کچھ لکھا جاچکاہے اب اس سے زیادہ کوئی بات بیان کرناحرام ہے۔انہوں نے یہ نہ سمجھا کہ یہ کلام ایک مجید خدا کانازل کردہ ہے جوخود بھی بڑی شان اوربزرگی کاحامل ہے اورجس طرح قانون قدرت کے خزانے کبھی ختم نہیں ہوتے اسی طرح کلام الٰہی کے خزانے بھی کبھی ختم نہیں ہوتے۔دنیا میںکوئی زمانہ ایسانہیں گذراجب ایجادیں ختم ہوگئی ہوں۔ریل نکلی توکہاگیا اب کوئی چیز اس سے زیادہ کیا نکلے گی۔اس وقت ریل پندرہ میل فی گھنٹہ چلتی تھی۔پھر تیس میل فی گھنٹہ چلنی شروع ہوگئی۔پھر ۳۵ میل فی گھنٹہ چلنی شروع ہوگئی۔پھر چالیس میل فی گھنٹہ چلنی شروع ہوگئی۔پھر پچاس میل فی گھنٹہ چلنی شروع ہوگئی۔پھر ساٹھ میل فی گھنٹہ چلنی شروع ہوگئی۔حتیٰ کہ اب ۷۵ میل فی گھنٹہ تک ریل چل سکتی ہے۔اس کے بعد موٹر نکل آئی۔پہلے لوگوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی تھی۔و ہ سمجھتے تھے کہ ریل تو لوہے کی پٹڑی پر دوڑتی ہے مگرموٹر کیسے دوڑے گی۔پھر ریل کے انجن میں کوئلہ ڈالاجاتاہے۔پانی ڈالاجاتاہے اورتھوڑی تھوڑ ی دیر کے بعد مزید کوئلہ اور پانی ڈالاجاتاہے اورا س کوئلے اور پانی سے بھاپ بنتی ہے جس سے ریل چلتی ہے لیکن یہ موٹر کیسے چلے گی۔لیکن موٹریں ایجاد ہوئیں اورلوگوں نے خیال کیا کہ اس سے بڑھ کر اور کیاچیز ہوگی؟ پھر کاریں آگئیں۔تولوگوں نے خیال کیا یہ بڑی عجیب چیز ہے۔پہلے پہل جوکار آئی تھی وہ بڑی اونچی او ربے ڈول سی تھی اس سے بڑی آواز پیداہوتی تھی اورجھٹکے لگتے تھے۔پھر آہستہ آہستہ کارنیچی ہونی شروع ہوئی۔پھر جھٹکے کم لگنے شروع ہوئے۔پھر سلنڈر بڑھنے شرو ع ہوئے توآواز کم ہونے لگی اورآہستہ آہستہ آواز اتنی کم ہوگئی کہ اب کا ر پاس سے گذرے تو معلوم بھی نہیں ہوتا۔صرف سڑک کے ساتھ لگنے سے جو آواز پیداہوتی ہے وہی آتی ہے۔پھر لوگوں نے خیال کیاکہ اس سے بڑھ کر اَورکیاایجادہوگی۔لیکن کچھ عرصہ کے بعد ہوائی جہاز نکل آئے۔پہلے ایسے ہوائی جہاز نکلے جو صر ف پچاس ساٹھ میل چل کر پرواز ختم کردیتے تھے۔پھرسوڈیڑھ سومیل تک چلنے والے جہاز نکلے۔جب پچھلی جنگ عظیم ہوئی تو سوڈیڑھ سومیل کی رفتار پر بھی لو گ حیران ہوئے تھے لیکن اب ایسے جہا زنکل آئے ہیں جو چھ سومیل فی گھنٹہ کی رفتار سے اُڑان کرتے ہیں بعض ایسے ہیں جو ایک ہی دفعہ پٹرول لے کر چھ چھ ہزار میل چلے جاتے ہیں۔پھر گولیاں نکل آئیں۔پہلے بندوقیں ایجاد ہوئیں جن میں ایک ایک گولی بھری جاسکتی تھی۔لیکن بعد میں رائفلیں ایجاد ہوئیں جن میں سات سات دس دس گولیاں بھری جاتی ہیں۔پھر ٹامی گنیں نکل آئیں جن کی چرخی پر سوسوڈیڑھ ڈیڑھ سوگولیاں چڑھادی جاتی ہیں۔پھر برین گنیں نکل