تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 441 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 441

فرمایا ہے کہ لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَۜيْطِرٍ۔اِلَّا مَنْ تَوَلّٰى وَ كَفَرَ۔فَيُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الْعَذَابَ الْاَكْبَرَ۔یعنی تجھے اس لئے نہیں بھیجاگیا کہ تُولوگوں سے جبری طور اپنامذہب منوائے۔نہ ہم نے ان پر جبر کرنے کے لئے بھیجاہے جو منہ پھیر لیتے ہیں اورکفراختیار کرتے ہیں۔ان لوگوں کوسزادینا خدا کاکام ہے۔تیراکام نہیں۔کیونکہ خدادلوں کے حالات کوجانتاہے تونہیں جانتا۔یہ دوسرا بطن تھاجواس زمانہ کے حالات کے مطابق آپ پر کھولاگیا۔اوراسلام کی تائید میں تلوار اٹھانے سے منع کیاگیا۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا کہ قرآن کریم کے سات بطن ہیں اس کے ایک معنے یہ ہیں کہ دنیا میں سات بڑے بڑے تغیرات آئیں گے اورہرتغیر کے زمانہ میں لوگوں کے ذہن بدل جائیں گے۔اس وقت خدا تعالیٰ قرآن کریم کے ایسے معنے کھو ل دے گاجولوگوں کے اس وقت کے ذہنوں اورقلوب کو تسلی دینےوالے ہوںگے۔اس زمانہ میں بیسیوں مسائل ایسے رنگ میں کھلے ہیں کہ پہلے ان کی ضرورت اوراہمیت محسوس نہیں کی جاسکتی تھی۔مثلاً آیات قرآنی کے نسخ کامسئلہ ہے۔پہلے ایسے وقت میں نسخ کاسوال پیداہواکہ اس وقت کے لوگوں کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہ تھی۔کیونکہ ان کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کاعمل تھا۔پس باوجود نسخ کے عقیدہ کے یہ بات قرآن کریم کی سچائی کے معلوم کرنے میں روک نہ بن سکتی تھی۔لیکن جب ایسازمانہ آیاکہ لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے دور ہوئے اوردنیا کے ذہنی اورعلمی تغیر کے مطابق قرآن کریم کی آیات کے معنے نہ کرسکے توکہنے لگے یہ آیت بھی منسوخ ہے اوروہ آیت بھی منسوخ ہے۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کوکھڑاکیا اور آپ نے ثابت کیا کہ قرآن کریم کی کوئی آیت ان معنوں میں منسوخ نہیں ہے کہ اس پر عمل نہیں کیاجاسکتا۔اورجن آیات کو منسوخ قرار دیاجاتاتھا ان کے ایسے معنے بیان فرمائے جنہیں لوگوں کی عقلیں بآسانی قبول کرسکتی ہیں۔یہ ان آیات کادوسرابطن تھا جوخدا تعالیٰ نے آپ پر کھو لا۔توقرآن کریم کے سات بطن سے مرادسات عظیم الشان ذہنی اورعقلی اورعلمی تغیرات ہوسکتے ہیں اوراس میں بتایاگیا ہے کہ ہرایسے تغیر میں قرآن کریم قائم رہے گا اورکوئی یہ نہیں کہہ سکے گاکہ ہمارے زمانہ کی ضروریات کو قرآن پورانہیں کرتا۔باقی الہامی کتابیں توایسی ہیں کہ جن کے متعلق ہم کہہ سکتے ہیں کہ جب زمانہ بدلا اوردنیا میں تغیرآیا توان کتب میں جوکلام تھااس کے وہ معنے نہ نکلے جواس زمانہ کے ذہنوں کے مطابق ہوتے۔اس لئے وہ قابل عمل نہ رہیں مگرقرآن کریم کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جوں جوں دنیا میں تغیر آتے جائیں گے اورلوگ قرآن پڑھیں گے اس زمانہ کی ضرورت کوپوراکرنے والامفہوم اس میں سے نکلتاآئے گا اورلوگ تسلیم کریں گے کہ ہاں قرآن کریم