تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 440
کہ تم نے کچھ بھی نہیں پہنچایا۔گویاہمارااستاد اورہماراآقا خود ہمارے گھروں پر چل کرآگیاہے۔اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَرَحْمَۃً۔اگرتم سوچوتوتمہیں معلوم ہوکہ ہم نے اپنے رسولؐ کو جویہ حکم دیا ہے یہ تم پرہمارااتنا عظیم الشان انعام ہے جس کی کوئی حدہی نہیں۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کانام بھی قرآن کریم میں رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْنَ رکھا گیا۔گویاپنجابی کی وہی مثال یہاں صادق آرہی ہے کہ ’’ چوپڑیاں تے دودو‘‘یعنی روٹیاں گھی سے چُپڑی ہوئی بھی ہوں اورپھر ملیں بھی دودو۔توکیاچاہیے۔اللہ تعالیٰ بھی کہتاہے کہ ہم تمہیں ایک توچپڑی ہوئی روٹیاں دے رہے ہیں اورپھر دودودے رہے ہیں۔ایک توہم نے وہ کتاب دی جوہرطرح کامل اورمکمل ہے اورجس کی نظیر کسی اورالہامی کتاب میں نہیں مل سکتی اور پھراپنے رسول کو یہ حکم دے دیاہے کہ جائو اورہماری کتاب خود لوگوں کے گھر پہنچ کرانہیں سنائو۔اوراس کی تعلیموں سے انہیں آگاہ کرو۔وَذِکْرٰی۔ایک نعمت تویہ تھی کہ اتنی عظیم الشان نعمت گھر بیٹھے مل گئی۔اوردوسری نعمت یہ ہے کہ جواس کتاب کو مان لیں گے دنیا میں ان کی عز ت قائم کردی جائےگی۔بعض لوگ اس کے یہ معنے کرتے ہیں کہ قرآن کریم میں نصیحت کی باتیں ہیں۔یہ معنے بھی درست ہیں مگراس کے یہ معنے بھی ہیں کہ جولوگ اس کتاب پر سچے دل سے ایمان لائیں گے ان کا ذکر نیک دنیا میں جاری رہے گا۔اورکہا جائے گاکہ فلاں نے یہ خدمت کی اورفلاں نے وہ خدمت کی۔گویایہ کتاب نہ صرف ذاتی کمالات کے لحاظ سے ایک شرف اورعظمت رکھتی ہے بلکہ جو لوگ اس پر صدق دل سے ایمان لائیں گے وہ بھی دنیا میں معززاور مکرّم ہوجائیں گے اور چونکہ یہ سوال پیداہوسکتاتھا کہ قرآن کریم قیامت تک آنے والے لوگوں کے لئے کس طر ح کافی ہو سکتا ہے جبکہ ہرزمانہ اپنے ساتھ نئی ضرو ریات لاتااور نئے تغیرات پیداکرتاہے۔اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شبہ کے ازالہ کے لئے فرما دیاکہ قرآن کریم کے سات بطن ہیں۔عام طورپرلوگوں نے اس حدیث کو پوری طرح نہیں سمجھا۔اس کامطلب یہ بھی ہے کہ مختلف زمانوں کے تغیرات کے مطابق قرآن کریم کی آیات کے معنے کھلتے جائیں گے۔یہی وجہ ہے کہ پہلے لوگوںکوقرآن کریم کی کئی آیات کے وہ معنے نظر نہ آئے جوبعد میں تغیر آنے والے زمانہ کے لوگوں کو نظر آئے۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے قرآن کریم کے جونکات او ر معارف نکالے وہ قرآن کریم میں نئی آیات داخل کرکے نہیں نکالے آیات وہی تھیں ہاں آپ پرا س زمانہ کے مطابق ان کا بطن ظاہر ہوا۔چونکہ زمانہ کے حالات بدلتے رہتے ہیں۔اور موجودہ زمانہ مذہب کے متعلق امن اورصلح کا زمانہ تھا اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم سے امن کے احکام اور صلح کی تعلیم پیش فرمائی اوربتایاکہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو واضح الفاظ میں