تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 439
وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّمَا اوروہ کہتے ہیں کہ کیوں اس کے رب کی طرف سے اس پر کوئی نشانات نہیں اترے۔کہو کہ نشانات تو الْاٰيٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ۰۰۵۱اَوَ لَمْ خداکے پاس ہیں (جب وہ فائدہ دیکھتاہے اتار تاہے)اورمیں تو ایک کھلاکھلا ہوشیارکرنے والاہوں۔يَكْفِهِمْ اَنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ يُتْلٰى عَلَيْهِمْ١ؕ اِنَّ فِيْ کیاان کے لئے (یہ نشان)کافی نہ تھا کہ ہم نے تجھ پرایک مکمل کتاب(یعنی قرآن)کونازل کیا جوانہیں پڑھ کر ذٰلِكَ لَرَحْمَةً وَّ ذِكْرٰى لِقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ۰۰۵۲ سنائی جاتی ہے اس امر میں مومنوں کے لئے توبڑی رحمت اورنصیحت کے سامان ہیں۔تفسیر۔فرمایا۔ظالم لوگ کہتے ہیں کہ اس پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشان کیوں نہیں اترے۔اے محمدؐ رسول اللہ! توان سے کہہ دے کہ تمہارے نزدیک تو نشان سے مراد نشان عذاب ہی ہوتاہے اورایسے نشان بھی خداکے پاس موجود ہیں۔مگرمیراکام توصرف ہوشیار کرناہے۔اورپھر سوال یہ ہے کہ کیا ان لوگوں کے لئے یہ نشان کافی نہیں کہ ہم نے تجھ پرایک مکمل کتاب اتاری ہے جوان کے لئے اپنے اندر رحمت کابڑابھاری سامانِ ہدایت رکھتی ہے۔فرماتا ہے اَوَ لَمْ يَكْفِهِمْ اَنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ يُتْلٰى عَلَيْهِمْ١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَرَحْمَةً وَّ ذِكْرٰى لِقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ۔ارے اب بھی ان کوکسی اَورجگہ جانے کی ضرورت ہے۔جبکہ ہم نے انہیں اتنی بڑی چیز دے دی ہے جس کی اَورکہیں مثال ہی نہیں ملتی۔یعنی ہم نے ایک کامل کتاب اتار دی ہے اوروہ ایسی کتاب ہے کہ يُتْلٰى عَلَيْهِمْ۔سمندر کے پاس تولوگ جاتے ہیں۔مگریہ سمندر ایساہے کہ آپ تمہارے پاس چل کرآگیاہے۔پھر دنیا میں تولوگ استادوں کے پاس جاتے اوران سے درخواست کرتے ہیں کہ ہمیں بتایاجائے کہ فلاں بات کس طرح ہے۔مگر یہاں وہ استاد بھیجاگیاہے کہ جسے خدا کی طرف سے یہ حکم ہے کہ بَلِّغْ مَآاُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ (المائدۃ :۶۸) تم خود لوگوں کے پاس جائو اورانہیں یہ تمام باتیں پہنچائو۔اوریاد رکھو کہ اگرتم نے ان میں سے ایک بات بھی نہ پہنچائی توہم کہیں گے