تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 438
شاید اسی کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نقل کرلیاہو۔کیونکہ بعض دفعہ انسان گومضمون نہیں سمجھتا مگرنقل کرتاجاتاہے۔جیسے کاپی نویس بعض دفعہ مضمون نہیں سمجھتے مگرنقل کرلیتے ہیں۔اورجوشخص اس طرح نقل کرے وہ کچھ نہ کچھ حروف سمجھ بھی جاتاہے۔مثلاً مجھے عبرانی نہیں آتی۔لیکن بعض الفاظ جوعربی سے ملتے جلتے ہیں سمجھ آجاتے ہیں۔جیسے حضرت مسیح علیہ السلام کاقول ہے۔’’اِیْلِی اِیْلِی لِمَاسَبَقْتَانِیْ‘‘یہ عبرانی زبان کے الفاظ ہیں مگرعر بی کے ساتھ ملتے ہیں اوران کاعربی زبان میں یہ مفہوم ہے کہ اِلٰھِیْ اِلٰھِیْ لِمَ تَرَکْتَنِیْ خَلْفًاوَذَھَبْتَ اَمَامًا۔سَبَقَ کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ کوئی شخص آگے نکل جائے اوراپنے ساتھیوںکوپیچھے چھوڑ جائے گویا سَبَقْتَنِیْ کے معنے تَرَکْتَنِیْ کے ہیں۔اب گو میں عبرانی نہیں جانتا لیکن چونکہ میںعربی جانتاہوں۔اس لئے ایسے الفاظ کو آسانی سے سمجھ سکتاہوں۔تواللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق تنزل کے طورپر فرمایاکہ تُوتوان کتابوں کونقل بھی نہیں کرسکتاتھاکہ اس طرح تجھے کچھ نہ کچھ معلوم ہوجاتا تَخُطُّہٗ بِیَمِیْنِکَ سے ایسا ہی لکھنا مراد ہے جیسے کاتب بے سوچے سمجھے لکھ دیتے ہیں۔بَلْ ھُوَ اٰیٰتٌ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ میں بتایاکہ اس قرآن میں ایسی تعلیم ہے کہ آسمانی علم والے لوگ فوراً اسے اپنے دلوں میں محسوس کرنے لگتے ہیں اورسمجھ جاتے ہیں کہ یہ خدا کاکلام ہے۔صرف ظالم ہی اس کاانکار کرتے ہیں۔یعنی اگریہ خدائی کلام نہ ہوتاتوخشیۃ اللہ رکھنے والے لوگوں کے دلوں میں اس کے ذریعہ سے علم وعرفان کے چشمے کیوں پھوٹ پڑتے۔یہ بات تو صر ف الٰہی تائید سے ہوتی ہے اورتائید الٰہی اسی کلام کوحاصل ہوتی ہے جوخدا کی طرف سے ہو۔غرض اس آیت میں اس اعتراض کاردّکیاگیاہے جوبالعموم دشمنان اسلام کی طرف سے کیا جاتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تورات اور انجیل کو پڑھ پڑھ کر یالوگوں سے سن سن کر یہ باتیں قرآن میں درج کرلی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قرآن کریم میں تو ایسے علوم ہیں جو پہلی کتابوں میں ہیںہی نہیں۔اورجب وہ ان علوم سے خالی ہیں تونقل کیسے ہوگئی۔مخالفین کافرض ہے کہ وہ پہلے یہ ثابت کریں کہ ان کی کتابو ںمیں یہ مضمو ن موجود تھے۔لیکن جب ان کی کتابیں ان تمام حقائق و معارف سے خالی ہیں جوقرآن کریم نے بیان کئے ہیں تو یہودیوں اور عیسائیوں کایہ کہنا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری کتابوں سے یہ باتیں اخذ کی ہیں سورج کوچراغ دکھانے کے مترادف ہے۔