تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 437
لئے توتورات اور انجیل پڑھنے کاکوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا۔کیونکہ آپؐ اُمّی اوراَن پڑھ تھے۔اوراگر بالفرض آپؐ نے وہ کتابیں پڑھی ہوتیں توان کے واقعات کے متعلق ضروری تھا کہ آپ ؐ دوسروں سے باتیں بھی کرتے۔آخر جب کو ئی شخص علم حاصل کرتاہے توو ہ ایک دوون میں ہی اس کے تمام مسائل سے واقف نہیں ہوجاتابلکہ وہ سال دوسال بلکہ اس سے بھی زیادہ مدت تک پڑھنے کے بعد اس کے مسائل کے متعلق واقفیت حاصل کرتاہے۔اورپھر جوعلم وہ حاصل کرتاہے اس کے متعلق دوسرے لوگوں سے گفتگو بھی کرتاہے۔لیکن تم جانتے ہوہمارے اس رسولؐ نے اس سے پہلے کسی سے اس قسم کی باتیں نہیں کیں پھر اب جو یکدم اس قسم کی باتیں کرنے لگ گیاہے تومعلوم ہواکہ یہ باتیں اسے کسی ایسی ہستی نے بتائی ہیں جوتمام دنیا کے عالموں سے زیادہ علم رکھنے والی ہے۔ورنہ ہمارایہ رسول ؐ تواپنی زبان میں لکھی ہوئی کتاب بھی نہیں پڑھ سکتا۔کسی دوسری زبان میں لکھی ہوئی کتاب کس طرح پڑھ سکتاہے۔پس یہاں مِنْ کِتٰبٍ سے مراد کتب سماویہ ہیں اورخدا تعالیٰ مخالفین اسلام کواس طرف توجہ دلاتاہے کہ ہمارایہ رسول تم میں ہی رہتاہے کیااس کو کبھی کسی نے تورات یاانجیل کے متعلق باتیں کرتے دیکھا۔اگرنہیں توپھر کس طرح ایک ہی رات میں اس نے ان کتابوں کو پڑھ لیا۔اورایک ہی رات میں غیر زبان سیکھ لی۔اوران کتابوں کے سارے مضامین ازبرکرلئے۔اگرایساہواہے تویہ بھی تو ایک معجزہ ہے۔مگریہ توان کتابوںسے بالکل ناواقف تھا۔اس نے کبھی ان کے متعلق کبھی کوئی بات نہیں کی۔پھر سوچنے والی بات یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تورات پڑھنی کس سے تھی۔مکہ میں صرف ایک ہی شخص ورقہ بن نوفل تھے جوتورات کے بعض حصے عبرانی سے عربی میں نقل کیاکرتے تھے۔مگرساری تورات وہ بھی نہیں جانتے تھے۔دعویٰ کرنے کے بعد جب آپؐ نے دیکھا کہ بعض لوگ تورات پڑھتے ہیں تو آپؐ نے ان کو منع فرما دیاتاکہ ان پر قرآن کریم اورتورات کے مسائلمختلط نہ ہوجائیں۔یعنی ایسانہ ہوکہ کوئی مسئلہ تورات میں ہواوروہ اس کے متعلق یہ خیال کرلیں کہ یہ قرآن کریم میں ہے۔یاکوئی مسئلہ قرآن کریم میں ہواوروہ اس کے متعلق یہ سمجھیں کہ یہ تورات میں ہے۔اس لئے آپ نے تورات کے پڑھنے سے منع فرما دیا۔اسی طرح حدیثوں کے لکھنے سے بھی منع فرما دیا۔کیونکہ اس وقت قرآن کریم اتررہاتھا۔اورخطرہ تھاکہ دوسری باتیں اس میں مخلوط نہ ہوجائیں۔وَلَاتَخُطُّہٗ بِیَمِیْنِکَ میں اس طرف اشارہ فرمایاکہ جس کتاب کی تلاوت کی نفی کی ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے لکھابھی نہیں کرتے تھے۔یہ نفی بھی عام ہے۔یعنی کتب سماویہ میں سے کوئی کتاب آپ لکھابھی نہیں کرتے تھے۔یہ نفی اس لئے بھی ضروری تھی کہ ممکن تھاکوئی شخص یہ خیال کرلیتاکہ ورقہ بن نوفل نے جس قدر تورات کاترجمہ کیاتھا