تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 436 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 436

مخالفین کہہ دیاکرتے تھے کہ آپ تورات او رانجیل کی باتیں دوہرادیتے ہیں اورکہہ دیتے ہیں کہ مجھے یہ یہ الہام ہواہے۔بلکہ اب تک عیسائی بھی یہی اعتراض کرتے رہتے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ایک دوسری جگہ ان کے اس اعتراض کا ذکرکرتے ہوئے فرماتا ہے کہ منکرین کہتے ہیں ھِیَ تُمْلیٰ عَلَیْہِ بُکْرَۃً وَّ اَصِیْلًا اسے صبح شام لوگ تورات کی آیتیں سناتے ہیں۔جنہیں یہ دوہرادیتاہے۔یعنی ہماری کتابوں سے چُراچُراکریہ باتیں بیان کردیتاہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہمارایہ رسول اُمّیوں میں رہتاہے اوران سے سارادن باتیں کرتارہتاہے مگرشام تک تویہ تورات اور انجیل کے کسی واقعہ کا ذکرنہیں کرتا۔پھر یہ کیابات ہے کہ صبح کواٹھتاہے توان کتابوں کے واقعات دوہراناشروع کردیتاہے اوردہراتابھی اس شان سے ہے کہ تورات اور انجیل کے تما م غلط واقعات کی تصحیح کرتاچلاجاتاہے۔اورجن واقعات کو بائیبل نے ترک کردیاہے ان کو بیان کردیتاہے۔گویاوہ تورات کی نقل نہیں کرتا بلکہ تورات کی خامیوں کی اصلاح کرتا اور پھر اس گردوغبارکو بھی دور کرتاہے جومرورِ زمانہ کی وجہ سے یہود اور نصاریٰ کے ہاتھوں انبیاء کے مقدس چہروں پر پڑ گئی تھی۔پھر بعض مسائل تورات کے ایسے بھی تھے جن کو اس وقت خود یہود ی بھی نہیں جانتے تھے۔مثلاًاحادیث میں لکھا ہے کہ مدینہ کے یہودی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دفعہ ایک آدمی کو لے کر آئے جس پر زناکاالزام تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تورات میں زانی کے لئے کیاسزاہے؟ وہ کہنے لگے ہمارے ہاں تواس کاکوئی ذکرنہیں۔آپ نے فرمایا۔نکالوتورات۔انہوں نے تورات کھو لی۔تواتفاق کی بات ہے کہ وہی صفحہ نکلا جس میں زانی کے لئے رجم کاحکم تھا۔ایک یہودی نے جلدی سے اس جگہ اپناہاتھ رکھ دیا۔لیکن حضرت عبداللہ بن سلام نے دیکھ لیا اورانہوں نے اس سے کہا کہ اپناہاتھ اٹھائو اس نے ہاتھ اٹھایاتو نیچے زانی کے لئے رجم کا حکم موجود تھا۔جب ا س قسم کے موٹے موٹے مسائل سے بھی اکثریہود ناواقف تھے توان کے متعلق یہ کیسے گمان کیاجاسکتاہے کہ وہ باریک مسائل کے متعلق علم رکھتے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ علوم ان سےحاصل کرتے تھے۔بلکہ حدیثوں سے تویہاں تک پتہ چلتاہے کہ ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تورات پڑھنی شروع کی توآپؐ سخت ناراض ہوئے (مشکوٰۃ باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ) ایسی صورت میں یہ خیال بھی کس طرح کیاجاسکتاہے کہ آپؐ یہودی علما ء سے تورات کی باتیں معلوم کیاکرتے تھے۔غرض اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دشمنوں کے اس اعتراض کا جواب دیا ہے اورفرمایا ہے کہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پریہ لوگ جھوٹاالزام لگاتے ہیں کہ آپؐ نے تورات اور انجیل پڑھ کر یہ باتیں معلوم کرلی ہیں آپؐ کے