تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 40
اس قانون کی وجہ سے نیکیوں میں ترقی کرنے کاسفر بڑاآسان ہوگیاہے۔اورہرعمل اس سے اگلے عمل کو آسان تربنادیتاہے۔آخر ایک ماہر فن کی کیوں تعریف کی جاتی ہے اسی لئے کہ مسلسل ایک کام کرنے کی وجہ سے وہ اپنے اند ر ایک ایسی قابلیت پیداکرلیتا ہے کہ اس فن سے اسے ایک مناسبت پیداہوجاتی ہے اوروہ اس میں دوسروں سے آگے نکل جاتاہے۔اگراللہ تعالیٰ انسانی فطرت میں یہ ملکہ نہ رکھ دیتا کہ مسلسل کام کے نتیجہ میں اسے اپنے کام سے ایک مناسبت پیداہوجاتی ہے توکوئی شخص بھی اپنے فن میں ترقی نہ کرسکتا۔یہی قانون نیکی اوربدی کے میدان میں بھی جاری ہے۔ایک نیک انسان پہلے اپنے نفس پر بوجھ محسوس کرتے ہوئے کسی نیکی کی طرف اپنا قدم بڑھاتاہے۔مگررفتہ رفتہ وہی نیکی اس کے رگ و ریشہ میں اس طرح سرایت کرجاتی ہے کہ اس کاترک کرنا اس کے لئے ناممکنات میں سے ہو جاتا ہے۔اسی طرح جب کوئی شخص بدی میں اپنے آپ کو ملوث کرنا شروع کردیتاہے توخواہ پہلی بدی اس کے دل میں اضطراب پیداکردے مگر رفتہ رفتہ وہی بدی اس کی غذابن جاتی ہے جس کو چھوڑنا اس کے لئے بڑادوبھر ہوتاہے۔غرض اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اسی قانون کی طرف اشارہ فرمایا ہے اوربتایاہے کہ چونکہ ان لوگوں نے آخرت کا انکار کردیا ہے۔جس کی وجہ سے انہیں کسی گرفت کاخوف نہیں رہا۔اس لئے ان کے دلوں میں گناہوں پر دلیری پیداہوگئی ہے اورپھر متواترگناہوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر ایسازنگ لگ گیا ہے کہ وہ اپنے برے افعال کو بھی اچھاسمجھنے لگ گئے ہیں۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے پاس ایک دفعہ ایک چور علاج کرانے کے لئے آیا۔توآپ نے اسے وعظ و نصیحت کرنی شرو ع کی کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ہاتھ پائوں اس لئے نہیں دیئے کہ تم ان سے حرام روزی کھایاکرو۔بلکہ اس لئے دیئے ہیں کہ تم ان کے ذریعے حلال روزی کما کر کھائو۔تم چوری کرنا چھو ڑکیوں نہیں دیتے۔اورکیوں حلال روزی نہیں کماتے۔جب آپ نے اسے یہ وعظ و نصیحت کی تواس کی آنکھیں غصے کی وجہ سے سرخ ہوگئیں۔اورکہنے لگا۔اچھامولوی صاحب اگر یہ حلال کی روزی نہیں توپھر اَورکونسی حلال کی روزی ہے۔آپ لوگ میٹھی نیند سورہے ہوتے ہیں اورہم مارے مارے پھر رہے ہوتے ہیں۔اگر کسی کوہمارے متعلق علم ہوجائے تووہ ہمیں گولی مارکر مار دے۔ہم اپنی جانوں کو خطرہ میں ڈا ل کرچوری کرتے ہیں۔پھراس سے بڑھ کر اورکونسی حلال روزی ہوسکتی ہے ؟حضر ت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے سمجھا کہ اسے چوری کی عادت پڑ چکی ہے اور یہ کام کرتے کرتے اس کی فطرت اتنی مسخ ہوچکی ہے کہ اب یہ کام اس کی نگاہ میں برانہیں رہا۔اس لئے اب بحث کے رنگ میں سمجھانے سے کوئی خاص فائدہ اسے نہیں ہوسکتا۔چنانچہ آپ فرماتے تھے کہ میں نے بات کو