تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 434 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 434

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ١ؕ فَالَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ اوراسی طرح(پہلی کتابوں کی مصدق بناکر )ہم نے تجھ پر یہ مکمل کتاب (یعنی قرآن کریم )اتاری ہے۔پس وہ الْكِتٰبَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ۚ وَ مِنْ هٰؤُلَآءِ مَنْ يُّؤْمِنُ بِهٖ١ؕ لوگ جن کو ہم نے یہ کتاب دی ہے وہ اس پر ایمان لاتے ہیں۔اوران لوگوں سے (یعنی اہل کتاب میں سے ) وَ مَا يَجْحَدُ بِاٰيٰتِنَاۤ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ۰۰۴۸ بھی بعض ا س پرایمان لاتے ہیں۔اورہماری آیتوں کاضد کے ساتھ انکار صرف کافر ہی کرتے ہیں۔تفسیر۔فرمایاجس طرح موسیٰ ؑ پرتورات نازل ہوئی تھی۔اسی طرح اب ہم نے تجھ پر یہ کتاب نازل کی ہے۔گویا اس زمانہ میں تیراوجود موسیٰ ؑ کاوہ طور ہے۔جہاں خدابول رہاہے۔پس وہ خوش قسمت لوگ جن کو ہم نے یہ کتاب عطافرمائی ہے یعنی محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیرو۔وہ تواس کتاب کے ایک ایک حرف کی صداقت پرکامل یقین رکھتے ہیں۔اوراس کی سچائی کے ثبوت میں اپنی جانیں تک قربان کررہے ہیں بلکہ اہل کتاب میں سے بھی بعض (کیونکہ مِنْ بعضیہ بھی ہوتاہے)ایسے ہیں جو اس قرآن کوموسیٰ ؑ کی پیشگوئیوں کامصدق سمجھتے ہوئے اس پرایمان لے آئے ہیں جیسے حضرت عبداللہ بن سلامؓ جویہود کے ایک بہت بڑے عالم تھے۔لیکن ایسے لوگ بھی ہیں جو جانتے بوجھتے ہوئے محض ضداورتعصب کی وجہ سے اس کاانکارکررہے ہیں۔یہ لوگ اول درجہ کے ناشکر گذارہیں۔کیونکہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھاکہ اس کتاب نے دنیا میں ایک عظیم الشان انقلاب پیداکردیاہے اورمردہ دنیا میں زندگی کے آثار پیداہورہے ہیں۔لیکن اتنے بڑے نشان کو دیکھنے کے باوجود انہوں نے صداقت کو قبول کرنے کی جرأت نہیں کی۔پس یہ لوگ درحقیقت کافرِ نعمت ہیں اورایسے ہی لوگ ہمارے روشن نشانات کی تکذیب کیاکرتے ہیں۔