تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 429
اَورعورت (یعنی حضرت مریم ؑ) تھی۔جس کاخاوند بھی نہیں تھا۔اس پر دشمنوں نے الزام لگایا۔ا وراس کے ہاں بیٹاپیداہوگیا۔اب آپ بتائیے کہ الزام کس عورت پرلگتاہے۔اس پر پادر ی سخت شرمندہ اورلاجواب ہوگیا او رکہنے لگا کہ مولوی صاحب آپ نے توسختی شروع کردی۔و ہ با ت تو ہم نے یو نہی کہی تھی۔خود میرے ساتھ بھی ایک ایسا ہی واقعہ گذراہے۔ایک دفعہ میرے پاس ایک انگریز آیااوراس نے کہا میں آپ سے اسلام کے متعلق کچھ باتیں کرناچاہتاہوں۔لیکن شرط یہ ہے کہ آپ کوئی الزامی جواب نہ دیں۔میں نے کہا اگرتم اسلام پر حملہ نہیں کروگے تومیں بھی الزامی جواب نہیں دوں گا۔لیکن جب باتیں شروع ہوئیں توتھوڑی دیر کے بعد ہی اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پرحملہ کرناشروع کردیا۔میں نے جواب میں حضرت عیسیٰ ؑ پر حملہ کردیا اس سے اس کاچہرہ سرخ ہوگیا۔اورکہنے لگا میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف کوئی بات نہیں سن سکتا۔میں نے کہا۔دیکھومیراتم سے وعدہ تھا کہ اگرتم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ نہیں کروگے تومیں بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر حملہ نہیں کروںگا۔چنانچہ میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف کوئی بات نہیں کی۔لیکن تم نے اپنے وعدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کیا ہے۔اگرتم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے غیرت ہے توکیا میں ہی اتنا بے غیرت ہوں کہ مجھے اسلام اورمحمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت پر حملہ دیکھ کر غیرت نہ آئے۔اگر تم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تائید میں محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرایک حملہ کروگے تومیں محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بیس حملے کروں گا۔چنانچہ وہ اسی وقت اٹھ کھڑاہوااورکہنے لگامیں عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کرسکتا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کا عیسائیوں کو الزامی جواب دینا ہرگز قابل اعتراض امر نہیں تھااورنہ آپ کے بعض سخت الفاظ کے مخاطب تمام اقوام کے نیک اور مہذب اورسنجیدہ لوگ تھے۔بلکہ صرف ایسے ہی لوگ آپ کے مخاطب تھے جنہوں نے شرافت سے کام نہ لیااوراسلام پر گند اچھالناشروع کردیا چنانچہ آپ اس بار ہ میں وضاحت کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ ’’ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں کہ ہم نیک علماء کی ہتک اورمہذب شرفاء کی عیب چینی کریں۔خواہ وہ مسلمان ہوں یامسیحی ہوں یا ہندوہوں بلکہ ہم ان اقوام میں سے جو بیوقوف ہیں ان کے لئے بھی سخت کلامی نہیں کرتے۔ہم صر ف ان کے متعلق سخت الفاظ استعمال کرتے ہیں جوبیہود ہ گوئی میں مشہور ہیں اوربدکلامی کی اشاعت جن کاکام ہے۔لیکن وہ جو ان باتوں سے پاک ہیں اوران کی زبان