تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 427
سامنے پیش کرو گے تولازماً تورات او رانجیل کے ساتھ قرآن کامقابلہ ہوجائے گا اور تمہاری ان سے بحثیں شروع ہوجائیں گی۔ایسی صورت میں ہم تمہیں یہ ہدایت دیتے ہیں۔کہ جب کبھی اہل کتاب سے بحث پیش آئے توایسی بات پیش کیاکرو جومضبوط ہواورخوبصورت نظر آنے والی ہو۔کیونکہ ان کے پاس خدائی کتاب موجود ہے خواہ وہ محرّف ومبدّل ہی کیوںنہ ہو۔مگربہرحال اس میں کچھ نہ کچھ کلام تو خدا کاہے۔پس ان کے ساتھ بحث کرتے ہوئے قرآن کریم کومدنظر رکھاکروکیونکہ قرآنی دلیلیں بہت زبردست ہیں۔اس کے مقابلہ میں بائیبل کی دلیلیں نہیںچل سکتیں۔اس جگہ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ سے قرآنی دلائل کی طرف ہی اشارہ کیاگیاہے۔چنانچہ قرآن کریم کے متعلق اللہ تعالیٰ ایک دوسرے مقام پر وضاحتہً فرماتا ہے کہ اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ١ۖۗ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ١ۚ ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ(الزمر: ۲۴) یعنی ہم ایک قانون جاری کررہے ہیں۔مگروہ کوئی جبری قانون نہیں وہ محض اپنی بادشاہت منوانے کے لئے نہیں بلکہ بہتر سے بہتربات جوکہی جاسکتی ہے خواہ دینی رنگ میں یادنیوی رنگ میں خواہ عقل سے خواہ نقل سے خواہ روایت سے خواہ درایت سے خواہ چھوٹوں کے لئے خواہ بڑوں کے لئے خواہ مردوں کے لئے خوا ہ عورتوں کے لئے ان تمام بہترین باتوں کو اس قانو ن میں جمع کردیاگیاہے اوراب قیامت تک یہ قانون منسوخ نہیں ہوسکتا۔دنیوی حکومتیں بعض دفعہ بڑی سوچ بچار کے بعد قانون بناتی ہیں۔مگر تھوڑ ے عرصہ کے بعد ہی انہیں اپنا قانون اپنے ہاتھوں سے منسوخ کرناپڑتا ہے۔امریکہ نے بڑازورلگایاکہ وہ کسی طرح شراب کے استعمال کو روک دے اوراس نے اس پر قانونی پابندیاں بھی لگائیں مگرتھوڑے عرصہ کے بعد ہی امریکہ کو شراب نوشی کی پھر اجازت دینی پڑی اورشراب کی ممانعت کاقانون اسے منسوخ کرناپڑا۔مگراللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ہم جس قانون کے نفاذ کااعلان کررہے ہیں وہ اَحْسَنُ الْحَدِیْث پرمشتمل ہے۔ہربہتر سے بہتر بات اس میں موجود ہے اوروہ انتہائی طور پر پاک اوربے لوث قانون ہے۔جس میں بنی نوع انسان کی تمام ضرورتوں کو ملحوظ رکھا گیاہے۔وہ ایساقانون نہیں جو آ ج سے سویاہزار سال کے بعد منسوخ ہوسکے یاجس میں ردّوبدل کی کوئی گنجائش نکل سکے۔پس اس جگہ احسن سے مراد قرآنی دلائل ہی ہیں۔یعنی اہل کتاب سے بحث کرتے وقت قرآنی دلائل کومدنظر رکھاکرو۔اٹکل پچوباتیں نہ کیاکرو۔اِلَّاالَّذِیْنَ ظَلَمُوْامِنْھُمْ اس میںبتایاکہ ہماری اصولی ہدایت تویہی ہے کہ بحث میں کبھی سختی سے کام نہ لو اور صرف دلائل تک اس گفتگو کومحدود رکھو۔لیکن چونکہ دنیا میں بعض ایسے ظالم لوگ بھی ہوتے ہیں جو دوسروں کے بزرگوں اور ان کے مقدس نبیوں پر بھی گند اچھالنے سے باز نہیں آتے اس لئے کبھی ایسے گندہ دہن دشمنوں سے تمہیں