تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 425

۔کیونکہ نماز کوسنوار کرپڑھنے والا اوران شرائط کوملحوظ رکھنے والا جواللہ تعالیٰ نے ادائے نماز کے لئے مقرر فرمائی ہیں اپنے اند رفوراً ایک تبدیلی پاتاہے اورزیادہ دن نہیں گذرتے کہ اس کے اند رایک خاص ملکہ پیدا ہوجاتا ہے جس سے اسے بدیوں کی شناخت ہوجاتی ہے اورپوشیدہ درپوشیدہ بدیوں پر اسے اطلاع دی جاتی ہے اورمخفی درمخفی گناہوں کا علم جودوسروں کونہیں ہوتا اسے دیاجاتاہے۔اورملائکہ اسے ہرموقعہ پرہوشیار کردیتے ہیں۔کہ دیکھنا یہ گناہ ہے ہوشیار ہوجانا۔ااوراسے شیطان کے مقابلہ کی مقدرت عطاہوتی ہے۔کیونکہ نمازی اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور تحمید کرتاہے اورخدا تعالیٰ کسی کااحسان نہیں رکھتابلکہ اپنے بندہ کواس کے اعمال کااعلیٰ سے اعلیٰ بدلہ دیتاہے۔جب نماز میں کمال تذلل اورخشوع او رخضوع کے ساتھ انسان خدا تعالیٰ کے حضور میں گرجاتاہے اوروہ تمام تذلل کے طریق جن کو کسی ملک کے باشندوں نے اظہار عبودیت کے لئے تجویز کیا ہے استعما ل کرتاہے تواللہ تعالیٰ اسے اٹھاتاہے اورجس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتاہے خدا تعالیٰ ملائکہ کو فرماتا ہے کہ دیکھو میرے اس بندہ نے میری پاکیزگی کا اقرار کیاہے تم اسے پاک کردو۔اوراس نے میری حمد کی ہے تم اس کی حمد کودنیا میں پھیلائو۔اوراس نے میرے حضور میں کمال تذلل اورانکسار کااظہار کیاہے تم اس کو عزت و رفعت دو۔غرض جوں جو ںا نسان نمازیں پڑھتاہے اوراللہ تعالیٰ کی پاکیزگی اور حمد اورعظمت کااقرار کرتاہے خدا تعالیٰ اس کے اعمال حسنہ کے ترازو کو بوجھل کرتاجاتاہے اور انسان کا رفع ہوتاجاتاہے۔اور چونکہ گناہ نتیجہ ہے مادیت کے تعلق کا۔جب انسان اس عالم سے بلند ہوتاجاتاہے تواس کاتعلق مادیت سے کم ہوتاجاتاہے اوروہ گناہوں سے محفوظ ہو جاتا ہے۔پھر فرماتا ہے وَلَذِکْرُ اللّٰہِ اَکْبَرُ۔بری اور ناپسندیدہ باتوں سے رکنا بھی ایک بڑامقصد ہے۔مگرنماز میں جو اللہ تعالیٰ کویاد کیا جاتا ہے یہ اس سے بھی بڑامقصد ہے۔وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَاتَصْنَعُوْنَ اوراللہ تعالیٰ تمہارے کاموں سے خوب واقف ہے۔اس لئے جب تم اللہ تعالیٰ کویاد کروگے تووہ بھی تمہیں یاد کرے گا۔تمہیں اپنے قرب اورالہام سے عزت بخشے گا اور تمہاری او رتمہاری قوم کی اصلاح کے سامان پیدافرمائے گا۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دوسرے خطبہ میں جو کلمات پڑھنے کی ہدایت فرمائی ہے اس کے کچھ الفاظ یہ بھی ہیں کہ اُذْکُرُوْااللّٰہَ یَذْکُرْکُمْ یعنی اللہ کویاد کروجس کے نتیجہ میں وہ تمہیں یاد کرے گا۔اسی طرح قرآن کریم میں آتاہے کہ فَاذْکُرُوْنِٓیْ اَذْکُرْکُمْ(البقرۃ:۱۵۳)یعنی چاہیے کہ تم مجھے یاد کرو اس کے نتیجہ میں میں بھی تمہیں یاد کروں گا۔یعنی تمہیں اپنے قرب میں جگہ دوں گا اور تمہاری ہرتکلیف اور مصیبت میں تمہاری مددکروںگااورظاہر ہے کہ جوشخص اللہ تعالیٰ کاقرب حاصل