تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 422 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 422

فرشتے قریب آتے ہیں اورشیطان دور بھاگتاہے۔بیشک حکم یہی ہے کہ کپڑے پاک رکھو۔لیکن فرض کرو کسی کے پاس اورکپڑے نہیں توبھی اس کے لئے یہ اجازت نہیں ہوگی کہ وہ نماز نہ پڑھے بلکہ اسے یہی کہا جائے گا کہ خواہ تمہارے کپڑے گندے اور ناپاک ہیں پھر بھی تم انہی گندے اورناپاک کپڑوں کے ساتھ نماز پڑھ لو۔مثلاً کسی شخص کے پاس صرف ایک ہی تہ بند ہے اوراسے شبہ ہے کہ وہ تہ بند پاک نہیںرہا تواس کے متعلق شریعت کایہ حکم نہیں ہوگاکہ وہ نماز نہ پڑھے۔بلکہ اس کے متعلق حکم یہ ہوگاکہ وہ اسی تہ بند کے ساتھ نماز پڑھ لے۔کیونکہ کپڑوں کی پاکیزگی سے دل کی پاکیزگی بہرحال مقدم ہے مگرہمارے ملک میں لوگ کپڑوں کاتو خیال رکھتے ہیں اوراپنے دل کوناپاک ہونے دیتے ہیں۔اگرہم کپڑے کی ناپاکی کاخیال کرکے نماز چھو ڑدیتے ہیں تواس کے معنے یہ ہیں کہ ہم کپڑے کے پاک کرنے کاخیال توکرتے ہیں لیکن اپنے دل کوپاک کرنے کاخیال نہیں کرتے اوریہ سراسر حماقت ہے۔پس اس وقت جو کپڑامیسر ہو اسی کے ساتھ نماز پڑھ لینا جائز ہوگا۔مگریہ جائز نہیں ہو گاکہ کپڑے کی ناپاکی کے خیال سے اپنے دل کو ناپاک کرلیاجائے اورنماز کوچھوڑ دیاجائے۔نماز روحانی جسم کی اصلاح کا ایک ذریعہ ہے۔جس طرح ایک بیمار جسم محض یہ کہہ کر موت سے بچ نہیں سکتاکہ وہ بیمار ہے اوربیمار ہونے کی وجہ سے وہ روٹی نہیں کھا سکتا اسی طرح ایک روحانی جسم بھی یہ کہہ کرموت سے نہیں بچ سکتاکہ وہ بیمار ہے اورنماز نہیںپڑھ سکتا۔باوجودا س کے کہ ایک شخص بیمار ہے اور کھانا نہیں کھاسکتا۔مثلاً اس کے گلے میں ورم ہوگیا ہے۔یاجبڑاجُڑ گیا ہے۔یامعدہ غذاکواپنے اندر رکھ نہیں سکتا۔یاغذا کو انتڑیوں کی طرف دھکیل دیتاہے۔یامنہ کی طرف سے باہر پھینک دیتاہے۔یاکوئی رسولی پیداہوگئی ہے۔یاسرطان ہوگیاہے۔اورغذامعدہ میں ٹھہرتی نہیں بلکہ قے ہوجاتی ہے۔یاغذامعدہ کے اند رجاتی نہیں یاانتڑیوں میں کوئی بیماری لاحق ہے اس لئے انتڑیوں میں غذاٹھہرتی نہیں یاپچتی نہیں۔پھر بھی ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ مرے گا نہیں اس لئے کہ روٹی کے بغیر انسانی جسم بچ نہیں سکتا۔اسی طرح باوجود اس کے کہ ایک شخص کسی عذ ر کی وجہ سے نماز نہیں پڑھتا وہ مرے گا۔بعض لوگ عد م فراست کی وجہ سے یہ خیال کرلیتے ہیں کہ چو نکہ وجہ جائز ہے اس لئے نتیجہ نہیں نکل سکتا۔حالانکہ ان کا یہ خیال درست نہیں۔وجہ جائز ہو یاناجائز نتیجہ ضرور نکلے گا۔تم اپنے سر پر اپنی کمائی سے خرید اہواتیل لگائو یاچوری سے حاصل کیاہواتیل لگائو سرضرور چکنا ہوگا۔یہ نہیں کہ اپنی کمائی سے حاصل کردہ تیل سے سرچکناہو جاتا ہے اورچوری کے تیل سے سر سوکھارہ جاتاہے۔یہ نہیں کہ اپنی کمائی سے حاصل کئے ہوئے کپڑے سے تمہاراجسم ڈھک جائے اور چوری کئے ہوئے کپڑے سے جسم نہ ڈھکے۔کپڑاچاہے چوری کاہویااپنی کمائی سے خریداہوااس سے جسم ڈھک جائے گا۔جیسے اپنی