تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 421 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 421

کسی عزیز کو یاد کرلیتا ہے تواس کی محبت دل میں تازہ ہوجاتی ہے۔اوراس کی صورت آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے اسی لئے کہتے ہیں اَلْمَکْتُوْبُ نِصْفُ الْمُلَاقَاۃِ یعنی جب انسان اپنے کسی دوست یارشتہ دار کوخط لکھتاہے توگویاوہ اس سے نصف ملاقات کرلیتا ہے۔جب وہ السلام علیکم لکھتاہے اورپھر وہ اپنے حالات بتاتاہے اوراس کے حالات دریافت کرتاہے۔تو ایک رنگ میں وہ ایک دوسرے کے سامنے ہوجاتے ہیں او ران کی محبت تازہ ہوجاتی ہے۔گویا جس طرح ملاقات سے آپس کے تعلقا ت بڑھتے ہیں۔اسی طرح خط لکھنے سے بھی آپس کے تعلقات بڑھتے ہیں اورخط لکھنا ملاقات کاقائم مقام ہو جاتا ہے۔نماز بھی خدا تعالیٰ کی ملاقات کا ایک ذریعہ ہے اور چونکہ نماز خدا تعالیٰ کی ملاقات کاایک ذریعہ ہے اس لئے اسلام نے یہ ضروری قرار دیا ہے کہ انسان تھو ڑے تھوڑے وقفہ کے بعد خدا تعالیٰ کانام لے اور نماز کے لئے کھڑاہوجائے۔خواہ جنگ ہورہی ہو۔دشمن گولیاں برسارہاہو۔پانی کی طرح خون بہہ رہاہو۔پھر بھی اسلام یہ فر ض قرار دیتاہے کہ جب نماز کا وقت آجائے تواگر ممکن ہو مومن اسی وقت اللہ تعالیٰ کے حضور جھک جائے۔(نہایت خطرناک حملہ کی صورت میں وہ نمازیں جو جمع نہیں کی جاسکتیں ان کو بھی جمع کرنے کاحکم ہے خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقعہ پر چار نماز یں جمع کی ہیں ) بیشک جنگ کی وجہ سے نماز کی ظاہر ی شکل بدل جائے گی لیکن یہ جائز نہیں ہوگا کہ نماز میں ناغہ کیاجائے۔مگرآج کل مسلمانوں میں جہاں اوربہت سی خرابیاں پیداہوچکی ہیں وہاں ان میں ایک نقص یہ بھی پیداہوگیا ہے کہ وہ ریل میں آرام سے بیٹھے سفرکررہے ہوں گے مگرنماز نہیں پڑھیں گے اورجب پوچھا جائے کہ تم نماز کیوں نہیں پڑھتے ؟ توکہیں گے سفرمیں کپڑوں کے پاک ہونے کاکوئی اعتبار نہیں ہوتا ا س لئے ہم نماز نہیں پڑھتے۔حالانکہ سفرتوالگ رہا۔میراعقیدہ تویہ ہے کہ اگر سر سے پیر تک کسی شخص کے کپڑے پیشاب میں ڈوبے ہوئے ہوں اور اس کے پاس اورکپڑے نہ ہوں جن کو بدل سکے اورنماز کا وقت آجائے تووہ انہی پیشاب آلودہ کپڑوں کے ساتھ نماز پڑھ لے۔یااگرپردہ ہے توکپڑے اتار کرننگے جسم کے ساتھ نماز پڑھ لے اوریہ پرواہ نہ کرے کہ اس کے کپڑے پاک نہیں یاجسم پرکوئی کپڑانہیں۔کیونکہ نماز کی اصل غر ض یہ ہے کہ تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد خدا تعالیٰ کانام لیاجائے اوراس طرح اس کی یاد اپنے دل میں تازہ کی جائے۔جس طرح گرمی کے موسم میں تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد انسان ایک ایک دودوگھونٹ پانی پیتارہتاہے تاکہ اس کا گلہ تررہے اوراس کے جسم کو تراوت پہنچتی رہے۔اسی طرح کفر اور بے ایما نی کی گرمی میں انسانی روح کو حلاوت اورتروتازگی پہنچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے تھوڑ ے تھوڑے وقفہ کے بعد نماز مقرر کی ہے۔تاکہ وہ گرمی اس کی روح کو جھلس نہ دے اوراس کی روحانی طاقتوںکو مضمحل نہ کردے۔خداتعالی کانام لینے سے اس کی محبت تازہ ہوجاتی ہے