تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 420 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 420

میںسے کون سی عبادت زیادہ بہتر ہے۔اس پر وہ کہنے لگاکہ کعبہ اوردَیر تودونوں دل میں ہیں۔کسی ظاہری نماز کی کیاضرورت ہے۔میں نے اس سے پوچھا۔فرمایئے۔آپ شادی شدہ ہیں۔اس نے کہا۔ہاں۔میں نے کہا۔بچے بھی ہیں۔اس نے جواب دیا کہ بچے بھی ہیں۔میں نے کہا۔آپ نے کبھی بیوی بچوں کوپیار بھی کیاہے۔اس نے کہا۔کیوں نہیں کیا۔میں نے کہا اصل پیار تودل میں ہوتاہے پھرآپ ظاہر میں پیارکیوں کرتے ہیں۔اسی لئے کہ آپ سمجھتے ہیں اس پیار کی کوئی ظاہر ی علامت بھی ہونی چاہیے۔اگربیوی سے پیار کرنے کے لئے آپ صرف دل کا پیار کافی نہیں سمجھتے۔بچوں سے پیار کرنے کے لئے صرف دل کاپیار کافی نہیں سمجھتے۔بلکہ انہیں بوسہ بھی دیتے ہیں۔تو خداکے پیار کے معاملہ میں یہ آپ کیوں کہتے ہیں کہ کعبہ اوردَیر تو دونوں دل میں ہیں۔کسی ظاہری عبادت کی ضرورت نہیں۔بات یہ ہے کہ ظاہر اورباطن دونوں چیزیں مل کر انسان کوکامل بناتی ہیں۔اگریہ دونوںچیزیں ملائی نہ جائیں توکوئی نتیجہ پیدا نہیں ہوسکتا۔اگراچھی سے اچھی چیز آپ لوگ ایسے برتن میں لیں گے جوغلیظ ہوگاتوو ہ چیز بھی غلیظ ہوجائے گی۔اوراگربغیر برتن کے اس چیز کو لے لیں گے تووہ گرجائےگی۔گویابرتن کی بھی ضرورت ہے اورپھر اس بات کی بھی ضرور ت ہے کہ و ہ برتن اچھا ہو۔اوراس کے اندر کوئی اچھی چیز ہو۔اسی طرح نما ز اورروزہ اور حج اورزکوٰ ۃ اوردوسری عبادتوں کاحال ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ادھر یہ فرمایا ہے کہ قربانی کرو۔مگرادھر یہ بھی فرما دیا ہے کہ تم یہ مت سمجھو کہ قربانی کاگوشت اورخون خدا کو پہنچتاہے۔خدا کو صرف دل کااخلاص پہنچتاہے۔مگرباوجوداس کے کہ قربانی کاگوشت اور خون خدا تعالیٰ تک نہیں پہنچتا۔خدا تعالیٰ نے یہ نہیںکہا کہ قربانی نہ کرو بلکہ کہاہے کہ قربانی توکرو مگریہ سمجھتے ہوئے کرو کہ میں خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت اپنے محبوب کی بات پوری کرنے کے لئے اوران مقاصد کی تکمیل کے لئے جوخدا تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں قربانی کررہاہوں۔مثلاً و ہ غریب آدمی جو فاقے کرتاہے یاوہ غریب آدمی جو ہمیشہ دال روٹی کھاتاہے اس ذریعہ سے اسے بھی گوشت مل جاتاہے گویادل بھی صاف ہوتاہے۔ہمسایوں اور غرباء کے لئے محبت کے جذبات بھی پیدا ہوتے ہیں اورخدا تعالیٰ کاحکم بھی پوراہو جاتا ہے۔پس مسلمانوں کے لئے سب سے زیادہ ضروری امر یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو نماز باجماعت کاپابند بنانے کی کوشش کریں۔جوشخص اپنے محبوب کو بھول جاتاہے اوراس کی یاد اپنے دل میں تازہ نہیں رکھتا۔و ہ یہ دعویٰ نہیں کرسکتاکہ مجھے اپنے محبوب سے محبت ہے۔سچی محبت ہمیشہ اپنے ساتھ بعض ظاہری علامات بھی رکھتی ہے اورمحبت کی ایک بڑی علامت یہ ہے کہ انسان اٹھتے بیٹھتے اپنے محبوب کا ذکر کرتاہے اوراس کی یاد اپنے دل میں تازہ رکھتا ہے۔جب کوئی شخص اپنے