تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 419

کی کریزیں بالکل خراب ہوجائیں۔اس زمانہ میں اگر محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے تووہ یقیناً اس حکم میں ترمیم کرتے اور یقیناً وہ یہی کہتے کہ بنچ پر بیٹھے بیٹھے اگر سر جھکالیاجائے تواتناہی کافی ہے رکو ع اورسجدہ کی کوئی ضرور ت نہیں۔اسی طرح روزہ ہے۔یہ روزہ ان لوگوں کے لئے ہے جو بہت کھا جاتے ہیں۔عرب لوگ وحشی تھے اوروہ اپنے معدوں کا خیال نہیں رکھتے تھے اس لئے اسلام نے انہیں روزوں کاحکم دے دیا۔مگراب تہذیب کادور دور ہ ہے۔اب لوگ اپنے معدہ کا خا ص طور پر خیال رکھتے ہیں۔اب اگر صبح و شام صرف ناشتہ کرلیاجائے اورکیک بسکٹ کھالئے جائیں لیکن دن بھر کچھ نہ کھایاجائے توروزہ کے لئے اتنا ہی کافی ہے۔غرض مسلمانوں میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جوان عبادات کے متعلق سمجھتے ہیں کہ یہ آئوٹ آف ڈیٹ OUT OF DATEہیں۔موجودہ زمانہ میں ان کی ضرورت نہیں۔اورایک طبقہ ایساہے جو کہتاہے کہ نماز تودل کی ہی نماز ہے ظاہری حرکات کی کیا ضرورت ہے۔حقیقت یہ ہے کہ نماز ظاہر کی بھی ہے اوردل کی بھی۔اوران دونوں چیزوں کامجموعہ انسان کے لئے برکت کاموجب ہوتاہے۔اگرہم دل میں خداخداکرتے ہیں مگرظاہر میں نماز نہیں پڑھتے توہمار اد ل سے خداخداکہنا محض دھوکا اور فریب ہوگا۔کیونکہ محبوب کی با ت ماناکرتے ہیں۔ردّنہیں کیاکرتے۔عجیب بات یہ ہے کہ ایک طرف تو ہم خدا تعالیٰ سے اپنی محبت کااظہار کرتے ہیں اوردوسر ی طرف ہم اپنی محبت کاکوئی ثبوت پیش کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ اس نے کہا ہے سجدہ کرو۔مگرہم سجدہ کرنے کے لئے تیار بھی نہیں ہوتے۔یاظاہر میں تونماز پڑھی جائے مگر دل خدا کی طرف متوجہ نہ ہو۔تویہ بھی کوئی نماز نہیں ہو گی بلکہ محض ایک ورزش کہلائے گی۔جیسے ورزش سے سپاہی کاجسم مضبوط ہوتاہے۔اسی طرح نماز سے اس کاجسم بھی مضبوط ہوگا۔مگراس کے دل میں نور ایمان پیدا نہیں ہوگا۔کچھ عر صہ کی بات ہے۔میں سند ھ گیا تو ایک ہندو مجھ سے ملنے کے لئے آیا۔پارٹیشن کے موقعہ پر وہ وہاں سے بھاگانہیں تھا۔کیونکہ اس کے مسلمانوں سے تعلقات تھے۔میں نے اس سے کہا کہ تمہارے مسلمانوں سے دیر سے تعلقات چلے آرہے ہیں۔کبھی تم نے ان کے دین پر بھی غور کیا۔وہ کہنے لگا۔سب مذاہب اچھی باتیں کہتے ہیں۔ہمارامذہب بھی اچھا ہے اورآپ کامذہب بھی اچھا ہے۔میں نے کہا۔اگرسب میں ایک جیسی اچھی باتیں ہیں تو پھر تم مسلمانوں کے ساتھ مل کیوں نہیں جاتے۔آخرکوئی نہ کوئی فرق ہی ہے جس کی وجہ سے تم ہندوہو اور ہم مسلمان۔اگران دونوں مذاہب میں ایک جیسی باتیں پائی جاتی ہیں تویاتم مسلمان بن جاتے یا ہم ہندو بن جاتے۔بہرحال کوئی نہ کو ئی فرق ضرور تسلیم کرنا پڑے گا۔جس کی وجہ سے ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں اپنا علیحدہ وجودقائم رکھناچاہیے۔پھر میں نے اس سے کہا کہ کبھی تم نے نماز اوردیگر عبادات کااپنے مذہب کی عبادات سے مقابلہ کیا۔اوریہ دیکھا کہ ان