تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 415
یہ سمجھے کہ تُو خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے اور اگر تجھے یہ مقام حاصل نہیں تو تُو یہ سمجھے کہ خدا تعالیٰ تجھے دیکھ رہا ہے اس کے متعلق یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا تو ہر انسان کو ہر حالت میں دیکھ رہا ہے۔کیا اسلام کے رُو سے یہ کہنا جائز ہو گا کہ خدا فلاں کو دیکھ رہا ہے اور فلاں کو نہیں دیکھ رہا۔یا خدا عیسائیوں کو نہیں دیکھ رہا۔ہندوؤں کو نہیں دیکھ رہا۔سکھوں کو نہیں دیکھ رہا لیکن مسلمانوں کو دیکھ رہا ہے۔یا زیدؔ نماز نہ پڑھنے والے کو خدا نہیں دیکھ رہا اور زید ؔ نماز پڑھنے والے کو خدا تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔اگر ایسا ہو تا کہ جب بندہ نماز کے لئے کھڑا ہوتا تبھی خد ا اسے دیکھتا تو کئی لوگ جان بوجھ کر نماز چھوڑ دیتے اور سمجھتے کہ نہ ہم نما ز پڑھیں گے اور نہ خد ا ہمیں دیکھے گا۔پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ نماز کاادنی مقام یہ ہے کہ انسان یہ سمجھے کہ خدا اسے دیکھ رہا ہے تو اس کے یہ معنے تو نہیں ہوسکتے کہ انسان یہ سمجھے کہ خدا تعالیٰ نماز پڑھنے والے کو تو دیکھتا ہے اور جو نما ز نہیں پڑھتا اسے نہیں دیکھتا کیونکہ اس صورت میں کمزور لوگ نماز نہ پڑھنے کو اپنے لئے زیادہ برکت کو موجب سمجھتے اور وہ خیال کرتے کہ نہ ہم نماز پڑھیں گے اور نہ ہمیں خدا دیکھے گا۔پھر اور معنے بھی اس کے لئے جاسکتے ہیں اور وہ یہ کہ فی الواقعہ تو خدا تعالیٰ انسان کو نہیں دیکھ رہا لیکن تم یہ سمجھو کہ خدا تمہیں دیکھ رہا ہے۔اگر یہ معنے لئے جائیں تو یہ جھوٹ بن جاتا ہے۔اگر خدا ہمیں نہیں دیکھ رہا او رہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ خدا ہمیں دیکھ رہا ہے تو ہم اپنے نفس کو دھوکا دیتے ہیں۔اور ایک جھوٹا تصور اپنے ذہن میں پیداکرتے ہیں۔پس یہ دونوں معنے نہیں لئے جاسکتے۔نہ یہ معنے لئے جاسکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ہم کو عا م طور پر نہیں دیکھتا لیکن جب ہم نما ز پڑھتے ہیں تو وہ ہمیں دیکھتا ہے۔اور نہ یہ معنے لئے جاسکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ہم کو حقیقتاً نہیں دیکھ رہا لیکن ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ ہمیں دیکھ رہا ہے۔جب یہ دونوں معنے غلط ہیں تو لازماً ہمیں اس کے کوئی اور معنے لینے پڑیں گے جو قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق ہوں۔اور وہ معنے یہی ہیں کہ اس جگہ سمجھ لو کے معنے یقین کر لینے کے ہیں۔گویارسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کایہ فرماناکہ تم سمجھ لو کہ خداتمہیں دیکھ رہاہے اس کے معنے یہ ہیںکہ تمہیں یقینی طور پر اس بات کومحسوس کرناچاہیے کہ خداتمہیں دیکھ رہاہے اوریقینی علم اورمحض خیال اوروہم میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ایک آدمی صرف خیا ل کرتاہے کہ خدااسے دیکھ رہا ہے۔اورایک آدمی اس یقین کامل پرقائم ہوتاہے کہ خدااسے دیکھ رہاہے۔بظاہردونوں یہی سمجھتے ہیں کہ خداانہیں دیکھ رہاہے لیکن ایک کاتصور محض وہم پر مبنی ہوتا ہے جوجھوٹ بھی ہو سکتا ہے اوردوسرایقین کی مضبوط بنیادوں پر قائم ہوتاہے۔ایک کو بڑی آسانی کے ساتھ متزلزل کیاجاسکتاہے اوردوسراشخص جوا پنے اندر کامل یقین پیداکئے ہوئے ہوتاہے اسے دنیا کی کوئی طاقت متزلزل نہیں کرسکتی۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا یہ مطلب نہیں کہ گویہ واقعہ تو نہیں کہ خداتمہیں دیکھ رہاہے مگرتم نماز پڑھتے وقت یہ تصور کرلیا کرو کہ خداتمہیں دیکھ