تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 407
زندگی کو ضائع کرتاہے۔اُتْلُ مَاۤ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ اس کتاب (یعنی قرآن )میں سے جوکچھ تیری طرف وحی کیا جاتا ہے اسے پڑھ (اورلوگوںکوپڑھ کرسنا )اورنماز الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ کو (اس کی سب شرائط کے ساتھ )اداکر۔یقیناً نماز سب بری اورناپسندیدہ باتوں سے روکتی ہے۔اوراللہ (تعالیٰ ) اَكْبَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ۰۰۴۶ کی یاد یقیناً(اورسب کاموں سے )بڑی ہے۔اوراللہ (تعالیٰ) تمہارے اعمال کو جانتاہے۔تفسیر۔فرماتا ہے چونکہ مومنوں کے لئے آسمان اور زمین کی پیدائش میں ایک بہت بڑانشان ہے مگر کافراس کی حقیقت کو نہیں سمجھتے اس لئے اب یہی علاج باقی ہے کہ توقرآن کریم لوگوں کو سنا تارہ تاکہ اس کی مدد سے لوگ حقیقت کوسمجھیں اور انہیں بھی اللہ تعالیٰ سے تعلق پیداکرنے کی طرف توجہ پیداہو۔حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی زندگی کاتما م دارومدار قرآن کریم پر ہی ہے اوران کے تنزل کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے قرآن کریم کو چھوڑ دیا ہے۔نہ وہ خود قرآن کریم پر عمل کرتے ہیں اور نہ دوسروں کوقرآن کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔حالانکہ مسلمانوں کی زندگی کادارومدار ہی قرآن کریم پر ہے۔یہ ایک روحانی غذاہے جواللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے تیار کی ہے۔لیکن جس طرح غذاکی کئی شکلیں ہوتی ہیں۔مثلاً آٹے سے کبھی پراٹھے تیار کئے جاتے ہیں کبھی پھُلکے اور کبھی تنور کی روٹیاں بنائی جاتی ہیں۔اسی طرح قرآن کریم کی غذابھی کئی شکلوں میں تبدیل ہوگئی ہے۔کہیں یہ غذانماز کی شکل اختیار کر گئی ہے کہیں روزہ کی شکل اختیار کرگئی ہے کہیں حج کی شکل اختیار کرگئی ہے۔کہیں زکوٰ ۃ کی شکل اختیار کرگئی ہے۔گویاکہیںیہ پراٹھا بن گئی ہے کہیں پنجیری بن گئی ہے۔کہیں گُلگُلے بن گئی ہے۔مگر ہے وہی چیز۔لیکن ان چیزوں کاصرف بن جاناکافی نہیں جب تک ہم انہیں چبائیں نہیں۔انہیں نگلیں نہیں۔جب تک یہ غذامعدہ اورانتڑیوں کے دَور سے نہ نکلے اس سے فائدہ حاصل نہیں کیاجاسکتا۔اسی لئے میں نے ’’ذہنی جگالی‘‘کی ایک اصطلاح بنائی ہوئی ہے۔یعنی بغیر ذہنی جگالی کے روحانی غذاہضم نہیں ہوتی۔ایک جانورمعدہ سے چارہ نکالتاہے اورپھر اسے چباتاہے۔کیونکہ اس