تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 406
فائدہ صرف مومن اٹھاتے ہیں دوسرے لو گ اتنا بڑانشان دیکھنے کے باوجود کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے حالانکہ انسان اگر سوچے تو ہماری یہ زمین عالم شمسی کے مقابلہ میں بالکل ایسی ہی ہے جیسے ایک بڑے باغ میں کوئی مالٹارکھاہو اہو۔مثلاً شالامار باغ میں کوئی مالٹایابیر پڑاہوتواس بیریامالٹے کی جوحیثیت شالامار کے مقابلہ میں ہے اس زمین کی عالم شمسی کے سامنے اتنی حیثیت بھی نہیں۔پھر عالم شمسی یعنی سورج کے ساتھ جوسیار ے وغیر ہ ہیں ان کی حیثیت قطب ستارے کے نظام کے مقابلہ میں اتنی بھی نہیں جتنی ایک بیر کی حیثیت باغ کے مقابلہ میں۔یاایک مکھی کی حیثیت شہر کے مقابلہ میں ہوتی ہے۔پھر قطب ستارے کے ساتھ جو دنیا ہے اس کی حیثیت معلومہ دنیا کے مقابلہ میں اتنی بھی نہیں جتنی ایک مکھی کی شہر کے مقابلہ میں۔اگرانسان اس کا اندازہ لگا ناشروع کردے کہ عالم خلق کے مقابلہ میں مکھی کی کیا حیثیت ہے اورپھر سوچے کہ عالم خلق کے مقابلہ میں انسان جوایک خورد بینی ذرے کی حیثیت رکھتاہے بلکہ وہ اس کے مقابلہ میں ایک خوردبینی ذرے کے اربویں حصہ توکیااس کے اربویں حصہ کے اربویں حصہ کی حیثیت رکھتاہے اس انسان کوپیداکرنے کاخیال خدا تعالیٰ کوکیوں آیا۔تویقیناً اسے اللہ تعالیٰ سے تعلق پیداکرنے کاخیال آسکتاہے اوروہ سمجھ سکتاہے کہ اس کی حیثیت کتنی کمزو رہے اوراس کاغرور کتنا احمقانہ ہے۔و ہ انسان جو کہتاہے کہ مکاماروں توتمہارے دانت نکال دو ں۔فرشتوں کے نزدیک اس کی حیثیت ایک چیونٹی کے پنجے کی طرح ہے جس طرح چیونٹی(اگراسے زبان مل جائے )کہے کہ میں لات مارکر امریکہ کو اڑادوں توتمہیں کتنی ہنسی آئے گی۔اسی طرح جب انسان کہتاہے کہ میں مکا مارکرتمہارے دانت نکال دوں گا توفرشتوں کے نزدیک اس کی حیثیت چیونٹی کے پنجے کی سی بلکہ اس سے بھی کم ہوتی ہے۔گویاعالم مخلوق کے مقابلہ میں انسان کی کچھ بھی حیثیت نہیں۔وہی بادشاہ جن کے اعلانوں سے دنیا میں کھلبلی مچ جاتی ہے ان کے جسم میں ایک باریک خوردبینی کیڑا دق۔سل یاہیضہ کا چلاجاتاہے تووہ تڑپنے لگ جاتے ہیں اور ایک معمولی ڈاکٹر کے سامنے چلّاتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب خداکے لئے میراعلاج کریں۔مجھے سخت تکلیف ہے۔یاتو وہ اپنے سامنے کسی دوسرے کو سمجھتے ہی کچھ نہیں اوریاوہ دوچار سوروپیہ پانے والے ایک ڈاکٹر کے سامنے تڑپ رہے ہوتے ہیں۔وہ ڈاکٹر جس کے دل میں ان کی تندرستی کے دنوں میں اگرانہیں ملنے کی خواہش ہوتووہ انہیں مل بھی نہ سکے وہ بیماری میں اس کے آگے سر جھکادیتے ہیں۔پس انسان کو سوچنا چاہیے کہ آخر اس کی پیدائش کی کیاغر ض ہے۔اس کی پیدائش کی کوئی نہ کوئی غرض توہوگی۔قرآن کریم کہتاہے کہ خدا تعالیٰ نے کوئی چیز بے فائدہ اور عبث پیدا نہیں کی اور جب کوئی چیز بھی بے فائدہ نہیں توہرانسان کو اپنی پیدائش کے مقصد پر غور کرنا چاہیے اورسوچناچاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کے لئے پیدا کیاہے؟ اوراگر وہ اس بات پر غور نہیں کرتا تووہ یقیناً اپنی