تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 405 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 405

بدل کرکانوں سے بولنے اورزبان سے سننے کاکام نہیں لے سکتا۔اسی طرح اگر وہ چاہے کہ آگ انسانی جسم کو نہ جلائے یاٹھنڈاپانی اس کے جسم کو ٹھنڈانہ کرے تووہ ایسانہیں کرسکتا۔یااگروہ سورج اورچاند اورستاروں کے افعال میں کوئی تغیر پیداکرناچاہے۔تونہیں کرسکتا۔وہ اگر تیز مرچ استعمال کرےگا تو خدائے عزیز کاقانون اسے پیچش کی صورت میں اس کے اس جرم کی ضرورسزادے گا اوراگروہ اسے دورکرناچاہے گا توپھر بھی اسے خدا تعالیٰ کے ایک دوسرے قانون کی طرف جاناپڑے گا یعنی ایسی اشیاء استعمال کرنی پڑیں گی جوان مرچوں کے اثر کوباطل کردیں۔بہرحال خداتعالی کاقانون اس پر غالب ہے اورپھر آسمانوں او رزمین کی تخلیق سے خدا تعالیٰ کاحکیم ہونابھی ظاہر ہے کیونکہ دنیا کے تمام علوم کی بنیادیں اشیاء کے غیر متبدل خواص او رقدرت کے اٹل قوانین پر ہیں۔اگرآگ کبھی جلاتی اور کبھی نہ جلاتی یاپانی کبھی پیاس بجھاتااور کبھی آگ لگادیتا توسائینس کبھی ترقی نہ کرسکتی۔پس جہاں انبیاء کے مخالفین کی تباہی خدا تعالیٰ کے غالب اورحکیم ہونے کاثبوت ہے۔وہاں زمین وآسمان کااٹل قوانین پرمبنی ہونا بھی بتارہاہے کہ خدا تعالیٰ ہی سب پر غالب ہے۔پھر زمین و آسمان کی پیدائش کا ذکر کرکے اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ اتنے بڑے کارخانہ پرغورکرکے تم سمجھ سکتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بےفائدہ پیدا نہیں کیا۔اگریہ تمام نظام صرف اس لئے ہوتا کہ انسان اس پر چند دن زندگی گذارے اورپھر ہمیشہ کے لئے فناہوجائے تویقیناً یہ تمام کام عبث ٹھہرتا۔پس آسمان اور زمین کی پیدائش خود اپنی ذات میں اس بات کاثبوت ہے کہ انسان ایک بہت بڑے مقصد کے لئے پیدا کیاگیاہے او رموت صرف جسم اور روح کے جداہوجانے کانام ہے ورنہ زندگی غیرمحدود ہے۔اورہرانسان اپنے اعمال کے مطابق آئندہ ترقی یا تنزل کے راستہ پر چلنے والا ہے۔اسی طرح زمین وآسمان کی پیدائش کا ذکر کرکے دشمنانِ انبیاء کوا س طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ جس طرح زمین آسمانوں کے بغیر اپنی طاقت اورقابلیت کااظہار نہیں کرسکتی اسی طرح جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں آسمانی ہدایت کی ضرورت نہیں صرف اپنی عقل اور دماغ سے کام لے کر و ہ ترقی کرسکتے ہیں و ہ بھی اپنی تباہی کااپنے ہاتھو ںسامان کرتے ہیں کیونکہ زمین اسی صورت میں کام کے قابل ہوسکتی ہے جب اس پرآسمان ہو۔اسی طرح کوئی عقل انسانی راہنمائی کے لئے کافی نہیں جب تک آسمان سے الہام کاپانی نازل نہ ہو۔اگروہ آسمان روحانی سے قطع تعلق کرلیںگے تو ایک مردہ زمین کی طرح ہرقسم کے منافع سے محروم ہوجائیں گے۔اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ کہہ کر بتایا کہ آسمانوںا ورزمین کی تخلیق میںبڑابھاری نشان توہے مگراس سے