تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 404 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 404

’’ یارِ غالب شَو کہ تاغالب شوی ‘‘ اورغالب ہستی سوائے خدا تعالیٰ کے اورکوئی نہیں۔مگرمحض غلبہ کے نتیجہ میں چونکہ یہ ڈر بھی ہو سکتا ہے کہ دوسرے لوگ ناانصافی کاشکار نہ ہوجائیں اس لئے خدا تعالیٰ صرف عزیز ہی نہیں بلکہ و ہ حکیم بھی ہے یعنی اس کے تمام کام اور تمام حکم حکمت پر مبنی ہوتے ہیں۔ان میں کسی ظلم یاحق تلفی کاکوئی امکان نہیں ہوتا۔پس انسان کی سلامتی کی یہی راہ ہے کہ وہ عنکبوت کی سی خیالی پناہ گاہوںکو چھوڑ کر عزیز اورحکیم خدا سے اپنا تعلق پیداکرے۔آخر میں وَمَایَعْقِلُھَآاِلَّاالْعٰلِمُوْنَ کہہ کربتایا کہ ہم نے قارون اورفرعون اورہامان وغیرہ کے واقعات توبیان کردیئے ہیں۔مگران سے فائدہ صرف وہی لوگ اٹھائیں گے جواپنے اندر خدا تعالیٰ کی خشیت کامادہ رکھیں گے باقی لوگ فرعون اورہامان وغیرہ کے نقش قدم پر انبیاء کاانکار کرتے چلے جائیں گے۔اس جگہ عالم سے دنیوی علوم کے ماہر مرادنہیں بلکہ وہ لوگ مرادہیں جن کے دلوں میں خدا تعالیٰ کی خشیت پائی جاتی ہے۔اورجن کے متعلق قرآن کریم نے ایک دوسری جگہ صراحت فرما دی ہے کہ اِنَّمَایَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤُا(الفاطر : ۲۹) یعنی اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے صرف علماء ہی اس سے ڈرتے ہیں۔یعنی وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کی صفات کو سمجھتے ہیں۔خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً اللہ (تعالیٰ ) نے آسمانوں اور زمین کو خاص مقصد کے لئے پیدا کیاہے۔اس میں مومنوں کے لئے لِّلْمُؤْمِنِيْنَ۰۰۴۵ ایک بڑانشان ہے۔تفسیر۔اب اللہ تعالیٰ اپنے عزیز اورحکیم ہونے کے ثبوت میں آسمانوں اور زمین کی تخلیق کو پیش کرتاہے اور فرماتا ہے کہ اگر بڑی بڑی طاقتور قوموں او رحکومتوںکی تباہی دیکھ کر بھی تمہیں خدا تعالیٰ کے عزیز اورحکیم ہونے کاثبوت نظر نہیں آتا توتم آسمانوں اورزمین کی پیدائش پرغور کرو۔تمہیں معلوم ہوگاکہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو ایک نہایت پختہ اور اٹل قانون کے ماتحت بنایاہے۔یعنی ان میں ایسے قوانین جاری کئے ہیں جن کو کوئی شخص بدلنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ایک دہریہ اپنی زبان سے خدا تعالیٰ کا انکار تو کرسکتاہے لیکن وہ خدائے عزیزکے قانون کو