تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 398
الْحَكِيْمُ۰۰۴۳وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ١ۚ وَ مَا اوریہ مثالیں ہیں۔جو ہم لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں۔لیکن عالموں کے سواکوئی يَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ۰۰۴۴ ان کو اپنے پلّے نہیں باندھتا۔تفسیر۔گذشتہ قوموں کی ہلاکت اوربربادی کا ذکر کرنے کے بعد اب اللہ تعالیٰ ان کی ہلاکت کے اسباب کا ذکر کرتا ہے اورفرماتا ہے کہ ان کی تباہی اس لئے ہوئی کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کو چھو ڑ کر اپنے لئے بعض اورپناہ گاہیں تجویزکرلی تھیں۔کسی نے کہا ہامان بڑا معزز ہے لاکھوں افراد پر اس کی حکومت ہے اگر میں نے ہامان کو خوش کرلیا تو سمجھو کہ میں کامیاب ہوگیا۔کسی نے کہا ہمیں قارون سے اپنے تعلقات بڑھانے چاہئیں۔مال و دولت تو اس کے قبضہ میںہے۔اگرہم نے اسے خوش نہ کیا توہم توبھوکے مر جائیں گے۔ا یک اورشخص کے دل میں خیال آیا کہ قارون او رہامان بھی بے شک بڑے ہیں لیکن اصل طاقت توفرعون کی ہے کیوں نہ فرعون کی غلامی اختیار کی جائے اوراس کے اشاروں پر چلنے کی کوشش کی جائے۔اگر فرعون خوش ہواتو ہامان اور قارون کی بھی مجال نہیں کہ وہ ہمیں کوئی دکھ پہنچا سکیں۔یہی حال عاد اورثمود کے وقت ہوا۔ہودؑ اورصالح ؑ کو لوگ دیکھتے توسمجھتے کہ ان لوگوں کے پاس تو نہ کوئی طاقت ہے نہ جتھہ۔نہ مال ہے نہ دولت۔ہم نے ان کی بات مان لی اورایک خدا پر ایمان لے آئے توہمیں کون سا سُرخاب کاپر لگ جائے گا۔ہمیں توعاد کے بادشاہوں کے ساتھ اپنے تعلقات رکھنے چاہئیں تاکہ ہم اپنی دنیوی زندگی کو بہتر بناسکیں۔اورآنے والی آفات سے محفوظ رہ سکیں۔قوم ثمود نے بھی یہی نظر یہ اختیار کیااوراپنی قوم کے صنادید کو اپنی پناہ گاہ بنالیا۔غرض ہر ایک نے خدا کو چھو ڑکر بعض خیالی پناہ گاہیں تجویز کرلیں مگرانہیں کیامعلوم تھاکہ ان کی یہ پناہ گاہیں مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ کمزور ہیں اوروقت آنے پر ان کاتمام تارپود بکھر جائے گا۔اورنہ فرعون ان کے کام آئے گا اور نہ ہامان اورقارون انہیں خدائی عذا ب سے بچاسکیں گے۔چنانچہ جب فرعون اپنے لشکر سمیت غرق ہواتواس وقت ان کامجازی خداکہاں گیااوراس نے کیوں اپنے لشکر کو غرق ہونے سے نہ بچالیا؟ بلکہ اس نے کسی اورکوکیابچاناتھاخود بھی سمندر میں غرق ہوگیا۔اوراسے اپنی پناہ سمجھنے والے بھی غرق ہوگئے اوردنیاپر ثابت ہوگیا کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کو چھو ڑکر دوسروں کو اپنی پناہ گاہ سمجھتے ہیں وہ ویسے ہی تباہی کے قریب جارہے ہوتے ہیں