تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 36
جائیں تب بھی پرواہ نہیں کیونکہ دنیا بچ جائے گی۔اوراسلام کو غلبہ حاصل ہوجائے گا بیشک ایک کہنے والا کہہ سکتاہے کہ آج تواسلام کو کہیں غلبہ حاصل نہیں۔مگراس تنزل کے زمانہ میں بھی ان لوگوں کی قربانیوں نے ہی مسلمانوں کویہ عظمت دی ہوئی ہے کہ اسلام کانام بوجہ اس کثرت کے جو مسلمانوں کوحاصل ہے دنیا کے تمام لوگ ادب کے ساتھ لینے پر مجبور ہیں۔یہ رُعب مسلمانوں کو کہاں سے حاصل ہوا؟ انہی لوگوں کی قربانیوں کے نتیجہ میں حاصل ہواہے جوبسا اوقات فاقہ سے رات کوسوئے اور بسا اوقات فاقہ سے ہی صبح کو اٹھے بسا اوقات اگران کی پگڑی پھٹی ہوئی ہوتی تھی توانہیں پہننے کے لئے دوسری پگڑی نہیں ملتی تھی۔جوتی پھٹی ہوئی ہوتی تھی توانہیں پہننے کے لئے دوسر ی جوتی نہیں ملتی تھی۔یہ وہی رُعب ہے جو تمہارے باپ دادا کی قربانی کے نتیجہ میں تمہیں حاصل ہوا۔کہتے ہیں نام بڑا ہوتا ہے کام بڑانہیں ہوتا۔اب کام عام طور پر مسلمانوں کے چھوٹے ہیں۔لیکن انہیں نام ایسا حاصل ہوگیاہے کہ سب لوگ ان سے ڈرتے ہیں۔حضر ت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرمایاکرتے تھے کہ رستم کے گھر میں ایک د فعہ چو ر آگیا۔رستم اس کا مقابلہ کرنے کے لئے نکلا اوردونوں میں کُشتی شروع ہوگئی چور کو یہ پتہ نہیں تھا کہ جس شخص کاوہ مقابلہ کررہاہے وہی رستم ہے۔وہ یہ سمجھ رہاتھا کہ یہ کوئی رستم کا نوکر ہے۔آخر مقابلہ کرتے کرتے چور غالب آگیا اوروہ سینہ پر چڑھ کر رستم کی گردن کاٹنے لگا۔اتنے میں رستم نے یکدم شور مچادیا کہ ’’ آگیا رستم۔آگیا رستم ‘‘اورچو ریہ سنتے ہی اس کے سینہ پرسے اتر کربھاگ گیا۔حالانکہ اس نے رستم کو گرایاہواتھا۔مگرچونکہ رستم کے نام کو ایک خاص رعب حاصل ہوچکا تھا اس لئے اس نے رستم کوتوگرالیا۔مگررستم کے نام کا مقابلہ نہ کرسکا اوربھاگ گیا۔توجولو گ قربانیاں کرنے والے ہوتے ہیں وہ دنیا میں اپنا نام چھوڑ جاتے ہیں۔وہ مرجاتے ہیں مگر ان کانام ان کی اولادوں کی حفاظت کرتا چلا جاتاہے اورپھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اگلے جہان میں جوانہیں لازوال بدلہ ملے گا اس کاتوتصوربھی نہیں کیاجاسکتا۔پس بِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایاہے کہ مومنوں کایہ خاصہ ہے کہ وہ قربانیوں کے میدان میں بڑھتے چلے جاتے ہیں کیونکہ انہیں اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر کامل یقین ہوتاہے اوروہ سمجھتے ہیں کہ ہماری یہ قربانیاں ہماری قوم کو بھی عزت دیں گی اور خود ہمارے لئے بھی اللہ تعالیٰ کی رضاکاموجب ہوں گی۔گویا وہ وسیع نتائج جو آئندہ نکلنے والے ہوتے ہیں ان پر انہیں پورایقین ہوتاہے۔اوروہ اس مقصد کے لئے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرتے۔