تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 388
حضرت اسحٰق علیہ السلام اورپھران کے پوتے حضرت یعقوب علیہ السلام کی ولادت کی خبرمراد لی ہے (بحرمحیط جلد ۷ص ۱۵۰) گویا خدا تعالیٰ نے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایک نیک نسل کی پیدائش کی خوشخبری دی اورپھر قومِ لوط ؑ کی ہلاکت کی خبردی تاکہ آپ کاصدمہ کم ہوجائے۔اگر کوئی کہے کہ اگریہ رسول انسان تھے اورالہام کے ذریعہ سے خبرپاکر لوطؑ کوبتانے آئے تھے تو خدا تعالیٰ نے براہ راست حضرت لوط ؑ پرکیوں نہ الہام نازل کردیاتواس کا جواب یہ ہے کہ جیساکہ بائیبل سے ظاہر ہے حضرت لوط ؑ جوحضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے اُورسے جوعراق کے علاقہ کاایک قصبہ تھا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ہی ہجرت کرکے کنعان یعنی فسلطین کی طرف چلے آئے تھے یہاں پہنچ کر و ہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے الگ ہوکر سدوم نامی بستی میں رہنے لگے۔(پیدائش باب۱۲آیت۴،۵) اورطالمود جویہود کی روایات اورتاریخ کی کتاب ہے اس میں لکھاہے کہ سدوم اورعمورہ کے لوگ مسافروں کولوٹ لینے کے عادی تھے (جیوش انسائیکلوپیڈیا زیر لفظ سدوم )اسی کی طرف قرآن کریم نے بھی وَتَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ کے الفاظ میں اشارہ کیاہے۔اورجوقوم ہمسائیوں کواس طرح دکھ دینے کی عادی ہو لازماًو ہ اپنے ہمسائیوںسے خائف بھی رہے گی کہ شاید وہ کسی وقت اسے نقصان پہنچادیں۔اورسدوم والوں سے ان کے ہمسائیوں کی عملاً لڑائی بھی رہتی تھی۔بلکہ بائیبل بتاتی ہے کہ ایک دفعہ سدوم اورعمورہ کے بادشاہوں پر ارد گرد کے بادشاہوں نے مل کرحملہ کردیا اوروہ سدوم اورعمورہ کاسب مال اوروہاں کاسب اناج لے کرچلے گئے۔بلکہ لکھا ہے کہ وہ حضرت لوط ؑ کو بھی قیدی بنا کراپنے ساتھ لے گئے۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کواس بات کاعلم ہواتوانہوں نے تین سواٹھارہ بہادروں کے ساتھ ان کاتعاقب کیا اوروہ حضرت لوط ؑ کواورسدوم اورعمورہ کے باقی سب مردوںاورعورتوں کوجنہیں وہ پکڑ کر لے گئے تھے چھڑاکرلے آئے اورمال بھی انہوں نے واپس لے لیا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اس مہم سے کامیاب واپس آئے توسدوم کے بادشاہ نے آپ کااستقبال کیا اورملک صدق جوسالم کابادشاہ تھا اس نے بھی آپ کی دعوت کی اورسدوم کے بادشاہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ مجھے صرف آدمی دے دیئے جائیں۔اورمال خودرکھ لیں مگرحضرت ابراہیم ؑ نے کہا کہ میں جوتی کاایک تسمہ بھی اپنے پاس نہیں رکھوںگااورسب چیزیں آپ نے انہیں دےدیں۔(پیدائش باب ۱۴) پس چونکہ حضرت لوط علیہ السلام اس علاقہ سے پوری طرح واقف نہیں تھے بلکہ اس ملک میں سدوم والوں کے دشمن بھی موجود تھے۔اگربراہ راست ان پر الہام ہوتاکہ یہاں سے نکل جائو تووہ گھبراتے کہ جاؤںکہاں۔