تفسیر کبیر (جلد ۱۰)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 387 of 553

تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 387

فرشتے۔چنانچہ پیدائش باب۱۸آیت ۱،۲ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق لکھا ہے۔’’وہ دن کو گرمی کے وقت اپنے خیمہ کے درواز ہ پر بیٹھا تھا اوراس نے اپنی آنکھیں اٹھا کر نظر کی اور کیادیکھتاہے کہ تین مرد اس کے سامنے کھڑ ے ہیں۔‘‘ اسی طرح پیدائش باب ۱۸آیت ۱۶میں لکھا ہے۔’’تب وہ مرد وہاں سے اٹھے اور انہوں نے سدوم کارخ کیا۔‘‘ مگرپیدائش باب ۱۹آیت ۱ میں لکھاہے۔’’وہ دونوں فرشتے شام کوسدوم میںآئے اورلوط سدوم کے پھاٹک پربیٹھاتھا۔‘‘ گویابائیبل کبھی توانہیں انسان قرار دیتی ہے اور کبھی فرشتے اور کبھی تین مرد قرار دیتی ہے اور کبھی دوفرشتے۔مگرفرشتہ کہنے کے ساتھ ہی بائیبل یہ بھی کہتی ہے کہ حضرت لوطؑ نے ’’ ان کے لئے ضیافت تیار کی اور بے خمیری روٹی پکائی اورانہوں نے کھایا۔‘‘ (پیدائش باب۱۹آیت۳) حالانکہ اگروہ فرشتے تھے توان کے روٹی کھانے کاکوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتاتھا۔پس یہ رسل فرشتے نہیں تھے بلکہ انسانوں میں سے ہی بعض نیک لوگ تھے جو ان کی طرف بھجوائے گئے تھے۔یہ سوال کہ وہ پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس کیوں آئے اورکیوں نہ سیدھے حضرت لوط علیہ السلام کے پا س چلے گئے۔اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت لوط ؑ حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ایمان لانے والوں میں سے تھے اوراس لحاظ سے وہ ایک تابع نبی کی حیثیت رکھتے تھے جس طرح حضرت اسحاق ؑ اور حضرت اسمٰعیل ؑ بھی تابع نبی تھے یاحضرت ہارونؑ حضر ت موسیٰ ؑ کے تابع تھے گوان میں سے امتی نبی کوئی نہیں تھا۔کیونکہ اس زمانہ میںنبوت براہِ راست ملاکرتی تھی۔کسی سابق نبی کے فیض سے نبوت حاصل نہیں ہوتی تھی۔پس چونکہ حضرت لوط علیہ السلام نبوت سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام پرایمان لاچکے تھے اورآ پ کے ساتھ ہی ہجرت کر کے وہ شام میں آئے تھے اس لئے ان کی قوم کی تباہی کی خبر بھی پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ہی دی۔مگراللہ تعالیٰ نے اس عذاب کی خبر سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایک خوشخبری بھی پہنچادی جس کا ذکر وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِيْمَ بِالْبُشْرٰى میں کیاگیا ہے۔یہ بشارت حضرت اسحاق علیہ السلام کی پیدائش کی خبر تھی جس کا ذکر سورئہ ہود آیت ۷۲، سورۃ الحجر آیت ۵۴ اورسورۃ الذاریات آیت ۲۹ میں کیاگیا ہے۔علامہ ابوحیانؒ نے بھی بُشْرٰی سے