تفسیر کبیر (جلد ۱۰) — Page 386
اولیاء مراد ہیں جوخدا تعالیٰ سے وحی پاکر پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئے اور پھر حضرت لوط علیہ السلام کوعذاب کی خبر دینے کے لئے چلے گئے۔ان رُسُل کے انسان ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جب یہ لوگ آئے توآپ فوراً اپنے گھرتشریف لے گئے اور ان کے کھانے کے لئے ایک بچھڑاذبح کردیا (سورۃ ہود آیت ۷۰)اگرحضرت ابراہیم علیہ السلام سمجھتے کہ یہ فرشتے ہیں تو آپ ان کے لئے کھانے کاکیوں انتظام فرماتے۔پھر جب انہوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھایا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خیال گذراکہ مہمان نوازی میں کوئی سقم نہ رہ گیا ہو جس کی وجہ سے یہ کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھارہے توانہوں نے کہا کہ لَاتَخَفْ اِنَّااُرْسِلْنَآاِلیٰ قَوْمِ لُوْطٍ۔یعنی آپ تسلی رکھیں۔آپ کی مہمان نوازی کاشکریہ۔مگربات یہ ہے کہ ہم اس وقت ایک عذاب کی خبر دینے کے لئے جارہے ہیں اس لئے کھاناکھانے سے معذورہیں۔ان کایہ جواب بھی بتاتاہے کہ و ہ فرشتے نہیں تھے ورنہ وہ یہ جواب دے سکتے تھے کہ ہم توفرشتے ہیں اورہم نے کبھی کھاناکھایاہی نہیں اس لئے آپ کاکھانابھی ہم نہیں کھاسکتے۔پھروہ لوگ جب حضرت لوط ؑ کے پاس پہنچے توانہوں نے بھی دیکھ کر یہ نہیں کہا کہ خداکے فرشتے آگئے ہیں۔بلکہ انہوں نے بھی یہی کہاکہ اِنَّکُمْ قَوْمٌ مُّنْکَرُوْنَ (الحجر :۶۳) یعنی آپ لوگ تواس علاقہ میں اجنبی معلوم ہوتے ہیں۔گویاان کا ذہن بھی فرشتوں کی طرف نہیں گیا بلکہ انہوں نے بھی ان کو انسان ہی سمجھا۔پھران رُسُل کے انسان ہونے کاایک ثبوت یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے قُلْ لَّوْ كَانَ فِي الْاَرْضِ مَلٰٓىِٕكَةٌ يَّمْشُوْنَ مُطْمَىِٕنِّيْنَ۠ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا(بنی اسرائیل:۹۶)یعنی تُوانہیں کہہ کہ اگرزمین پرفرشتے بس رہے ہوتے جو زمین پراطمینان سے چلتے پھرتے تواس صورت میں ہم ضروران پر آسمان سے کسی فرشتہ کو ہی رسول بناکر اتارتے۔اس آیت سے معلوم ہوتاہے کہ فرشتے رسول ہو کر صرف نیک لوگوں کے لئے آتے ہیں۔بدکاروں کے لئے نہیں آتے۔مگریہ واقعہ بتاتاہے کہ ان فرشتوں کو سدوم کے تمام لوگوں نے دیکھا۔اوران کے آنے پر حضرت لوطؑ کولوگوں نے برابھلاکہا۔پس ان کاایسے لوگوں کے سامنے جسمانی رنگ میں ظاہر ہوناجن پر عذاب نازل ہونے والاتھااس آیت کے خلاف ہے۔پس اس جگہ رسل سے مراد ارد گرد کے علاقہ کے بعض ملہم ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام کے پاس اس لئے بھیجا کہ وہ عذاب کے وقت اپنے آپ کو بے یارومددگار نہ پائیں اور حضرت لوطؑ کو کسی امن کی جگہ پہنچادیں۔بائیبل جو ہرقسم کے رطب ویابس سے بھری ہوئی ہے اس نے ان رسل کو کبھی توانسان قرار دیا ہے اور کبھی